موٹروے زیادتی کیس: ملزمان کی نشاندہی پر انعام

اسرار خان

لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے دونوں بھیڑیوں کا سراغ لگالیا گیا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

ذرائع نے زبرنیوز کو بتایا کہ زیادتی کی شکار خاتون سے حاصل نمونے ملزمان کے ڈی این اے سے میچ کرگئے ، ملزمان کے نمونے فارنزک لیبارٹری کے ڈیٹا بینک میں پہلے سے موجود تھے۔

ایک ملزم کی شناخت عابد علی ولد اکبر علی کے نام سے ہوئی جو اشتہاری ہے، بہاولنگر میں فورٹ عباس کے رہائشی عابد کا ریکارڈ کرمنل ڈیٹا بیس میں 2013 سے موجود تھا۔ ملزم کی عمر 27 برس ہے اور اس کی گرفتاری کیلئے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکار چھاپے مار رہے ہیں۔ عابد نے 2013 میں ساتھیوں کے ساتھ اپنے ہی علاقے میں ڈکیتی اور ماں بیٹی سے اجتماعی زیادتی کی تھی۔

دوسرے ملزم کی وقار الحسن کے نام سے شناخت ہوئی۔ وہ شیخوپورہ کے علاقے قلعہ ستار شاہ کا رہائشی ہے اور اس کا بھی کریمنل ریکارڈ موجود ہے۔ وقار 14 دن پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوا تھا۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب عابد کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی، قلعہ ستار شاہ میں چھاپہ مارا گیا لیکن عابد اور اس کی بیوی فرار ہوگئے۔ ملزم وقار کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا لیکن وہ بھی نہیں ملا۔ امید ہے دونوں بہت جلد گرفتار کرلئے جائیں گے۔

وزیراعلی عثمان بزدار نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کو 25 ، 25 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا اور ان کے نام خفیہ رکھے جائیں گے۔

عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے متنازع بیان کو غیرذمے دارانہ قرار دیا اور بتایا کہ آئی جی نے انھیں شوکاز دیا ہے۔ 7 روز میں جواب مانگا گیا ہے اور اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ٹرینڈنگ

مینو