لبنان: وزیراعظم کابینہ سمیت مستعفی

لبنان کے وزیراعظم حسان دیاب اور ان کی کابینہ نے بیروت دھماکے پر احتجاج کے بعد استعفے دے دیا ، مشرق وسطی کی نازک صورتحال میں ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوگیا ہے۔ 

وزیراعظم نے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں کہا کہ وہ بیروت دھماکے کے ذمے داروں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں اور یہ اقدام اسی جانب قدم ہے، 30 سال سے حکمران بدعنوان سیاستدان 4 اگست کے دھماکے کے ذمے دار ہیں اور کرپشن کا نظام ریاست سے زیادہ طاقت ور ہے۔ صدر میشال نعیم عون نے استعفی منظور کرلیا اور وزیراعظم کو نئی کابینہ کے قیام تک نگراں کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کی ہدایت کی ہے۔

بیروت دھماکے کے بعد لبنانی کابینہ کے اہم وزرا وزیراعظم سے پہلے ہی استعفے دے چکے تھے۔ وزیرانصاف ، وزیراطلاعات اور وزیرماحولیات کے استعفوں کے بعد وزیر صحت نے بتادیا تھا کہ وزیراعظم بہت جلد حکومت کے استعفے کا اعلان کردیں گے۔

لبنان میں کئی روز سے احتجاج جاری تھا اور 2 دن سے پارلیمنٹ ہاوس کے قریب فورسز اور مظاہرین کی جھڑپیں ہورہی تھیں۔

مظاہرین فورسز کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا کر پارلیمنٹ ہاوس جانے کی کوشش کر رہے تھے اور اہلکارؤں کی شیلنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے وزارت خزانہ اور تجارت کی عمارتوں سمیت کئی سرکار املاک کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے پوسٹر بھی جلائے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو