لبنان : صدر اور حزب اللہ کے خلاف احتجاج

لبنان میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، سابق فوجیوں نے وزارت خارجہ کی عمارت پر دھاوا بول کر قبضہ کرلیا جبکہ کئی عمارتیں جلادی گئیں، مظاہرین صدر اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

5 سے 7 ہزار مظاہرین بیروت میں شہدا اسکوائر پر جمع پوئے، مشتعل افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا ، مظاہرین نے فورسز پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بموں سے بھی حملے کئے، اس دوران اہلکارؤں کو شیلنگ کرنا پڑی جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔

فورسز نے مظاہرین کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا۔ مظاہرین اور اہلکارؤں کی جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے بیروت دھماکے کو حکومت کی ناکامی قرار دیا اور صدر میشال نعیم عون کی تصاویر جلادیں جبکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے پوسٹرز کو علامتی پھانسی دی۔

سابق فوجی اہلکار وزارت خارجہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور اسے انقلاب کا ہیڈکوارٹرز قرار دے دیا ، پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی تو ریٹائرڈ فوجیوں نے سامان جلانا شروع کردیا البتہ فوج پہنچنے پر مظاہرین نے عمارت خالی کردی۔

حکومت مخالف مظاہرین باڑ عبور کرکے پارلیمنٹ ہاوس جانے کی کوشش کرتے رہے اور روکنے پر سرکاری عمارتوں کو آگ لگادی، صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے فوج نے بیروت میں گشت شروع کردیا ہے۔

وزیراعظم حسان دیاب نے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے مظاہرین کے مطالبے کی حمایت کی، انھوں نے قبل از وقت انتخابات کو بحران سے نکلنے کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔ صدر میشال نعیم عون نے بیروت دھماکے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکا بندرگاہ پر میزائل یا بم حملہ بھی ہوسکتا ہے۔

بیروت میں دھماکے سے 158 افراد جاں بحق اور 6 ہزار زخمی ہوئے جبکہ تقریبا 3 لاکھ بے گھر ہوئے تھے۔ یہ دھماکے 20 ہزارٹن امونیم نائٹرئٹ کی وجہ سے ہوئے تھے جو گودام میں 6 سال سے رکھا ہوا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو