لندن اور پیرس: پرتشدد احتجاج،کئی زخمی

ویب ڈیسک

بلیک لائیوز میٹر تحریک یورپ بھر میں پھیل گئی، برطانیہ میں سفید اور سیاہ فام افراد گتھم گتھا ہوگئے، حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ پیرس میں بھی پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

لندن میں پھر پرتشدد واقعات ہوئے ہیں ، ٹریفلگر اسکوائر ، پارلیمنٹ اسکوائر اور چیئرنگ کراس پر دائیں بازو کے سفید فام افراد پولیس اور بلیک لائیوز میٹر تحریک کے کارکنوں سے لڑپڑے۔

دونوں جانب کے مشتعل افراد نے ایک دوسرے کو مار مار کر لہولہان کردیا اور کئی زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، زبرنیوز اپنی پالیسی کے تحت ایسی تصاویر اور ویڈیو شامل نہیں کررہا۔

واٹر لو اسٹیشن پر بھی پرتشدد واقعات ہوئے، اس دوران اسموک بموں کا استعمال کیا گیا اور پانی کی بوتلیں پھینکی گئیں۔

مظاہرین نے مختلف علاقوں میں پولیس کو بھی نہ چھوڑا اور جو ہاتھ میں آیا اہلکاروں پر دے مارا، تشدد سے کم سے کم 6 اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس نے شام 5 بجے تک احتجاج کی اجازت دی تھی اور اس کے بعد کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا ، سیکڑوں افراد نے پولیس کی ہدایات نظر انداز کریں۔

سب سے زیادہ پرتشدد واقعات ٹریفلگر اسکوائر پر ہوئے جہاں مجمع لگا رہا اور لوگ ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔

وزیراعظم بورس جانسن نے پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نسل پرست ٹھگوں کی برطانوی سڑکوں پر کوئی گنجائش نہیں، پولیس پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ پوری طاقت سے نمٹا جائے گا۔

برسٹن اور نیوکاسل سمیت برطانیہ کے دیگر کئی شہروں میں پرامن احتجاج کیا گیا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے ، مظاہرین نے 2016 میں زیرحرست سیاہ فام 24 سالہ ادمت خووے کی موت پر مارچ کرتے ہوئے امریکا میں قتل کئے گئے جورج فلائیڈ کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

مظاہرین مشتعل ہوئے تو پولیس نے لاٹھیاں برسا دیں اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

پولیس سے جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوئے اور اہلکاروں نے کئی کو گرفتار کرلیا۔

چیک ریپبلک کے دارالحکومت پراگ ، سوئٹزر لینڈ اور نیدر لینڈز میں بھی احتجاج کیا گیا اور جورج فلائیڈ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

ٹرینڈنگ

مینو