امریکا: مینیاپلیس میں فسادات، کرفیو نافذ، ویڈیو

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینیاپلیس میں بدترین فسادات کے بعد کرفیو لگانا پڑگیا۔

مینیاپلیس کی پولیس 3 روز سے جاری فسادات روکنے میں ناکام ہوگئی، میئر نے رات 8 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو لگانے کا اعلان کردیا۔

فسادات پھوٹنے کے بعد سیاہ فام شہری جورج فلائیڈ کی ہلاکت کے ملزم سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک شوان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، شوان پر بے گناہ کے قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔

جورج فلائیڈ کے قتل کا واقعہ پیر کو پیش آیا تھا ، امریکی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ فلائیڈ نے گرفتاری کے موقع پر مزاحمت نہیں کی تھی ، اس دوران سفید فام اہلکار  ڈیرک شوان اس کی گردن پر بیٹھا رہا، 8 منٹ بعد موت واقع ہوئی لیکن وہ مزید 3 منٹ تک گردن پر سوار رہا۔

واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آتے ہی فسادات شروع ہوگئے اور اہلکار کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ اس دوران نہ صرف مینیاپلیس بلکہ امریکا بھر میں احتجاج کیا گیا۔

ہنگامے بڑھے اور پولیس نے مزاحمت کی تو مظاہرین نے مینیاپلیس میں تھانے ہی کو آگ لگادی۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ قاتل پولیس اہلکار کے تین ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا جائے۔

امریکی صدر کے ٹوئٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مظاہرین کا غصہ مزید بڑھ گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ لوٹنگ ہو تو پھر شوٹنگ ہوتی ہے۔ ٹوئٹر نے یہ پوسٹ ہٹادی ہے اور کہا ہے کہ صدر کا ٹوئٹ تشدد میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

مظاہرین پولیس کی جانب سے دھڑادھڑ پکڑ دھکڑ پر بھی نالاں ہیں اور ان کا موقف ہے کہ انصاف ہونے تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔

گرفتار کئے گئے افراد میں امریکی ٹی وی سی این این کے سیاہ فام اینکر بھی شامل تھے جس پر حکام کو معافی مانگنا پڑگئی۔

ٹرینڈنگ

مینو