بغاوت کیس: لیگی رہنماوں کی گرفتاری دینے تھانے آمد

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر پارٹی رہنماوں کے ساتھ بغاوت کیس میں گرفتاری دینے تھانہ شاہدرہ لاہور پہنچ گئے البتہ پولیس نے گرفتار کرنے سے انکار کردیا۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر ، نون لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ اور ایم این اے ملک ریاض اشتعال انگیز تقاریر اور بغاوت کیس میں گرفتاری دینے پہنچے تو وہاں لیگیوں کی بڑی تعداد پہلے سے ہی موجود تھی، رہنماوں نے ایس ایچ او سے ملاقات کی اور تبایاکہ انویسٹی گیشن افسر کا فون بند جارہا ہے۔

رہنماوں نے کہ وہ گرفتاری دینے آئے ہیں ، مقدمے کی کوئی ذمے داری لینے کو تیار نہیں ، مقدمہ درج کرانے والا تحریک انصاف کا کارکن گھر سے غائب ہے ، محمد زبیر بولے ایک شخص کے کہنے پر رہنماوں کی حب الوطنی پر حملہ کیا گیا، یہ کیس حکومت کی آشیر باد کے بغیر درج نہیں ہوسکتا۔

ایس ایچ او زاہد رندھاوا نے بتایا کہ انھیں تھانے میں تعینات ہوئے 2 روز ہوئے ہیں اور مقدمہ پہلے درج کیا گیا تھا، میرٹ پر تفتیش ہوگی اور حکام سے کیس کیلئے بورڈ بنانے کی سفارش کی جائے گی، فی الحال مسلم لیگ نون کے رہنماوں کو گرفتار نہیں کیا جارہا۔

نواز شریف سمیت نون لیگی قیادت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ گزشتہ دنوں لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج کرایا گیا تھا ، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید تنقید کی تھی جبکہ حکومت نے ایف آئی آر سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو