اسمبلی: 2 اہم بل منظور، اپوزیشن کا ہنگامہ

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے باوجود حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 2 بلز انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوام متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں لیگی رہنما خواجہ آصف کی تقریر کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بولنے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن نے ہنگامہ کیا اور کارروائی 3 بار ملتوی کرنا پڑی، وزیر خارجہ نے کہا اگر انھیں نہیں بولنے دیا گیا تو کوئی نہیں بولے گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے شاہ محمود قریشی کے سامنے آ کر احتجاج کیا۔ اس دوران ایوان چور چور اور ڈیزل ڈیزل کے نعروں سے گونجتا رہا۔

وزیر مواصلات مراد سعید کھڑے ہوئے اور کہا کہ شور کرلیں لیکن این آر او پلس کسی کو نہیں ملے گا۔ ملک منی لانڈرنگ اور لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے گرے لسٹ میں آیا۔ ترامیم پیش کرنے والے سارے نیب زدہ ہیں۔ اپوزیشن چاہتی ہے شہباز شریف کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں این آر او مل جائے۔

نون لیگی رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین کے ڈرافٹ سے حکومت کی نیت پتا چلتی ہے۔ بعض لوگ سیاسی کارکن کے نام پر دھبہ ہیں۔ وزیر خارجہ کل تقریر نہ کرتے تو جواب نہ دینا پڑتا۔ جنہوں نے غلط قوانین بنائے وہ خود اس کا نشانہ بنے، ہم بھگت رہے ہیں، عزت کے ساتھ مزید بھگت لیں گے۔ حکومت کا زوال شروع ہونے والا ہے، اب حکومت سے کسی معاملے پر مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔

خارجہ آصف نے کہا کہ حکومت کی صفوں میں مہا کرپٹ لوگ ہیں جن کی مثال نہیں ملتی، کیا بلین ٹری سونامی ، بی آر ٹی ، مالم جبہ اور غیرملکی فنڈنگ کیس میں نیب قوانین لاگو نہیں ہوتے ؟ انہوں نے تو خیبرپختون خوا میں احتساب کمیشن ہی بند کر دیا، خیبرپختونخوا میں سارے فرشتے ہیں۔ حکومتی اراکین نے زکوٰۃ کے 7 ملین ڈالرز سے بیرون ملک سرمایہ کاری کی، ان پر بھی تو قبروں کا ریفرنس بنائیں۔

ٹرینڈنگ

مینو