منی لانڈرنگ کیس، شہبازشریف گرفتار

اسرار خان

لاہور ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور نون لیگ کے صدر شہباز شریف کو گرفتار کرلیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ، اپوزیشن لیڈر کے وکیل اعظم نذیر نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے آمدن پر ٹیکس دیا اور ان کا آڈٹ بھی کرایا، نیب 20 سال بعد ٹیکس ریٹرن کو تسلیم نہیں کر  رہا۔ شریف گروپ آف کمپنیز کے کسی ریکارڈ سے شہباز شریف کا کوئی لینا دینا نہیں۔

شہباز شریف بولے انھوں نے قومی خزانے کے ایک ارب روپے بچائے اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کئے جبکہ ان کے فیصلے سے انکے بھائیوں اور بچوں کو نقصان ہوا ، اگر کرپشن کی ہوتی تو واپس کیوں آتا لندن میں رہ کر زندگی گزرتا، حکومت ان کی زبان بندی چاہتی ہے۔ بعد میں عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست خارج کی تو نیب حکام نے انھیں گرفتار کرلیا۔

شہباز شریف کی گرفتاری پر لیگی کارکن مشتعل ہوگئے اور انھوں نے احاطہ عدالت میں حکومت اور نیب کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس دوران لیگی کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ شہبازشریف کو نیب آفس منتقل کردیا گیا ہے اب انھیں کل عدالت میں پیش کیا جائے گا، شہبازشریف نے گزشتہ روز ہی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان انہیں گرفتار کرانا چاہتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو