نیب قوانین : اپوزیشن کی ترامیم مسترد

محمد عثمان

نیب قوانین میں ترامیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہوگئے، حکومت نے نیب قوانین میں اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردیں۔

نون لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ اپوزیشن نے حکومت کے کہنے پر ترامیم پیش کی تھیں ، حکومت کو اس سے اتفاق نہیں، اس صورتحال میں ہم نے کمیٹی اجلاس کا بائی کاٹ کردیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں ڈسکس کیا جائے گا، شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا بھی وہی موقف ہے جو نون لیگ کا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ اپوزیشن نے 35 ترامیم پیش کی تھیں جو قبول نہیں، حزب اختلاف چاہتی ہے منی لانڈرنگ کو نیب قانون کے دائرہ اختیار سے باہر کردیا جائے اور ایک ارب روپے سے زائد کی کرپشن پر نیب کیس بننا چاہئے ورنہ نہیں، ایسا ہوا تو احتساب کا ادارہ بے معنی ہوجائے گا۔ حکومت چاہتی ہے گرے لسٹ کی تلوار ہٹے اس لئے چار بلوں پر فوری قانون سازی کی ضرورت ہے، فیٹف کے 3 تقاضے شفافیت ، احتساب اور عالمی اداروں سے تعاون ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتی البتہ نون لیگ اس مدت میں کمی کی خواہش مند ہے، نون لیگ چاہتی ہے نیب قانون میں ترامیم کا اطلاق 16 نومبر 1999 سے ہو اور 14 سال کی کرپشن کا احتساب نہ کیا جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو