چینی پر سبسڈی، معاملہ نیب کے سپرد

معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شوگر انڈسٹری کے لوگ کارٹل بنا کر من چاہی زیادتیاں کر رہے تھے ، چینی بحران میں سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں، وزیراعظم نے کارروائی سے متعلق سفارشات منظور کرلی ہیں۔

وزیراطلاعات شبلی فراز کے ساتھ پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی اور ریکوری ، ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیوں اور چینی کی مناسب قیمت مقرر کرنے سے متعلق سفارشات منظور کرلی ہیں۔ 2014 سے اب تک کی 29 ارب روپے کی سبسڈی کا معاملہ نیب کو بھیجا جارہا ہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ نیب کریمنل انویسٹی گیشن کرے ، معاملے میں اگر کوئی وزیر ملوث ہو یا سیکریٹری سب کے خلاف کارروائی ہوگی، نیب سے درخواست ہے کہ وہ دیکھے شوگر ملز کیسے لگائی گئیں، کیا کیا فائدے اٹھائے گئے اور اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ شوگر ملز کے ٹیکس سے متعلق معاملہ ایف بی آر کو دیا جارہا ہے، ایف بی آر 90 دن میں کارروائی شروع کرے اور اسی مدت میں ریکوری کرے گا۔ مسابقتی کمیشن 90 روز میں چینی کے کاروبار میں گٹھ جوڑ کی تحقیقات کرے گا، گٹھ جوڑ کرنے والوں پر جرمانہ ہوگا اور وصولیاں بھی کی جائیں گی۔ حماد اظہر کی سربراہی میں کمیٹی چینی کی قیمت کم کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔

شہزاد اکبر نے شاہد خاقان عباسی سے شوگر رپورٹ پڑھنے کی اپیل کی اور کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے 20 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو چونا لگایا ، انھیں حساب دینا پڑے گا۔

وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ جب احتساب سخت ہوتا ہے تو بلاول بھٹو اے پی سی بلا کر سب کو اکٹھا کرلیتے ہیں ، بلاول نے کورونا کے مسئلے کو بھی سیاسی بنادیا،شہزاد اکبر بولے اپوزیشن کی اے پی سی کا مطلب آل شوگر ڈیڈیز کانفرنس ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو