قومی اسمبلی: دہشت گردی بل 2020 منظور

محمد عثمان

قومی اسمبلی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 5 بل منظور کرلئے، ایم ایم اے کے کہنے پر  اسلام آباد ٹرسٹ پراپرٹی بل کی منظوری مؤخر کر دی گئی۔

وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم نے بل منظوری کیلئے پیش کئے، اسمبلی نے کمپنیات ترمیمی بل، نشہ آور اشیاء کی روک تھام ترمیمی بل، شراکت داری محدود ذمہ داری بل اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا۔

انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے اہم نکات میں کالعدم تنظیموں اور ان سے تعلق رکھنے والوں کو قرض دینے یا مالی تعاون کرنے پر پابندی شامل ہے، بینک یا مالی ادارہ ممنوعہ شخص کو کریڈٹ کارڈز جاری نہیں کر سکے گا، پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ ہوجائیں گے، اسلحہ ضبط کر لیا جائے گا۔ دہشت گردی میں ملوث شخص کو 5 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا، قانون پر عمل نہ کرنے والے شہری کو 5 سے 10 سال قید ہوگی، ایسے افراد کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔ بل میں ممنوعہ اشخاص یا تنظیموں کیلئے کام کرنے والوں کی جائیداد بغیر نوٹس منجمد یا ضبط کی جاسکے گی۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا اکبر چترالی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی دباؤ پر بل پاس کئے جارہے ہیں ، اس کی منظوری کے بعد کون مسجد بنائے گا اور پانی کیلئے منصوبہ لگائے گا، بی این پی کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ کھڑکی کا شیشہ توڑنے والا دہشت گرد ہوتا ہے لیکن آئین توڑنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا، پہلے آئین توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر بل کی حمایت کریں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو