کورونا: وفاق صوبوں کی مدد کرے، بلاول

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت سب سے زیادہ ہے اور اب 60 لیبارٹریز ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صرف 2 لاکھ افراد کا ٹیسٹ کرنا کافی نہیں۔

کورونا وبا اور اقدامات پر غور کیلئے بلائے گئے قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ این سی سی کی بیٹھک میں قومی اتفاق رائے پیدا کیا گیا، صوبائی حکومتوں نے فضائی اور زمینی سفر پر اعتراض کیا جس پر فیصلہ موخر کردیا گیا، 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کا نظام صوبوں کے پاس چلا گیا ہے، صوبے کہتے ہیں امتیازی سلوک کیا جارہا ہے لیکن یہ غلط ہے ، سندھ سے ناانصافی کا تاثر درست نہیں، احساس کفالت پروگرام کے تحت سندھ کے 23 لاکھ خاندانوں کو 26 ارب روپے دیئے جاچکے ہیں ، سندھ میں 12 سال پیپلزپارٹی نے حکومت کی ، پنجاب میں 10 سال نون لیگ کی حکمرانی رہی۔ مراد علی شاہ کی کوشش کے باجود لاک ڈاؤن موثر نہیں ہوا، لاک ڈاؤن رہتا تو 71 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آجاتے۔ اب سندھ یا صوبائی کارڈ نہیں چلے گا صرف پاکستان کارڈ چلے گا ، پیپلزپارٹی سے تعصب کی بو آرہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام لگایا جارہا ہے، بھارت عالمی وبا کو مذہبی رنگ دے رہا ہے، پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے.

نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے کورونا پھیلتا گیا احتیاطی تدابیر کم کی جاتی رہیں، جب کم اموات تھیں تو مکمل لاک ڈاون تھا، اموات 150 ہوئیں تو اسمارٹ لاک ڈاؤن کردیا گیا، وزیراعظم نے بتایا مئی میں کورونا عروج پر ہوگا اور مئی میں ہی لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا ، 22 کروڑ افراد میں سے صرف 2 لاکھ کو ٹیسٹ کیا گیا جو کافی نہیں ، ہیلتھ سیکٹر سیاست کی نظر ہوچکا ہے، وزیرخارجہ کو یہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی کہ سندھ کارڈ کھیلا جارہا ہے ، سندھ کو محفوظ بنانا مراد علی شاہ کی ذمے داری ہے ، وہ اس کام کیلئے ہر قدم اٹھا رہے ہیں، یہاں تو پالیسی ہی نہیں، بہت چیزیں اسمارٹ سنیں ، لاک ڈاؤن اسمارٹ نہیں سنا، یا لاک ڈاؤن ہے یا نہیں ، سندھ اور آزاد کشمیر کی پالیسی اختیار کی جائے۔ لیگی رہنما نے شاہ محمود قریشی کی تقریر کا حوالہ دے کر بتایا کہ تفتان میں قرنطینہ کے انتظامات نہیں تھے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وزیرصحت بھی ہیں ، وہ لیڈر ہوتے تو اجلاس میں شرکت کرتے۔ حکومتی شخصیات کئی بار سندھ حکومت کی کردار کشی کرچکی ہیں، یہاں تک کہا گیا کہ سندھ کے عوام کی جہالت کے باعث لوگ کورونا سے متاثر ہوئے، وزیرخارجہ نے کہا پاکستان کی ٹیسٹنگ صلاحیت زیادہ ہے، اس کا سہرا صوبائی حکومتوں کو جاتا ہے، سندھ نے سب سے زیادہ ٹیسٹنگ صلاحیت بڑھائی۔ وفاقی حکومت نے صوبوں کی مدد نہیں کی ، خیبرپختونخوا میں سب سے کم ٹیسٹنگ صلاحیت ہے اور سب سے زیادہ اموات ہوئیں، صوبوں کا ایک سال کا ہیلتھ بجٹ وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اگر پی پی ای ہیں تو پنجاب میں ڈاکٹروں کو احتجاج کیوں کرنا پڑا، وزیرخارجہ نے تو خود بیان دیا تھا کہ جنوبی پنجاب میں حفاظتی سامان نہیں پہنچا۔ سندھ میں حکمراں جماعت کے رہنما غیرذمے دارانہ بیانات دے رہے ہیں ، کہا گیا کہ سندھ حکومت جان بوجھ کر کورونا مریضوں کی تعداد بڑھا رہی ہے، وزیراعظم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا تو اب شرح اموات اور کیسز بھی بڑھیں گے، اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے صوبوں کو زیادہ مدد کی ضرورت ہے ، گالیاں وبا پر قابو پانے کے بعد دے لیجئے گا۔ بلاؤل بھٹو نے کہا کہ گورنر سندھ کو ریلیف آرڈیننس پر دستخط کرنے چاہئیں، آپ کام کرنے نہیں دے رہے ، ایسا آرڈیننس دیگر صوبوں میں بھی آنا چاہئے، چیئرمین پیپلزپارٹی کا تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بننے کو تیار نہیں، اس طرح نہ ریاست چلتی ہے نہ وفاق چلتا ہے اور نہ وبا کا مقابلہ کیا جاسکے گا۔ یہ 18 ویں ترمیم پر بحث کا وقت نہیں ، آپ ترمیم نہیں کرسکتے ، مجھے اس وقت آپ کے خلاف الیکشن نہیں لڑنا وبا کا مقابلہ کرنا ہے ،تفتان پہنچنے والے افراد کو قرنطینہ نہیں کیا گیا، بلوچستان حکومت کی مدد نہیں کی گئی۔ رائے ونڈ اجتماع میں لوگوں کو تحفظ نہیں دیا گیا، لوگ وہاں خود بیمار ہوئے اور پورے پاکستان میں وفاق کی نااہلی کے باعث مرض پھیلا۔ آپ کو پالیسیاں تبدیل کرنی ہوں گی۔

بلاول بھٹو کے بعد مراد سعید کھڑے ہوئے لیکن اپوزیشن ارکان اٹھ کر چلے گئے ، پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اپوزیشن رہنما تقریر کے بعد بھاگ گئے، ڈاکٹر فرقان کو کراچی میں وینٹی لیٹر نہیں ملا اور ان کا انتقال ہوگیا، اس کا ذمے دار کون ہے ، یہ کنفیوژن پھیلانے آتے ہیں، لاک ڈاؤن لاہور اور پشاور میں کامیاب ہوا ، سندھ میں لوگوں نے راشن کیلئے احتجاج کیا ، لوگوں کو راشن نہیں ملا تو رقم کہاں خرچ کی گئی۔ آپ نے 8 سال میں صحت کا ساڑھے 5 کھرب روپے کہاں خرچ کیا ، مراد سعید نے کہا کہ فنکشنل لیگ نے پیر جو گوٹھ میں کورونا ٹیسٹ پر سوال اٹھایا ہے ، کورونا ٹیسٹنگ پر سوال اٹھنا خطرناک ہے۔

اجلاس میں ایک نشست چھوڑ کر بیٹھے کا انتظام کیا گیا ، اس دوران رہنما آپس میں گفتگو کرتے رہے جبکہ کئی ارکان اٹھ کر دوسرے اراکین کی نشستوں پر پہنچ گئے ، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو بار بار رہنماؤں کو اپنی نشستوں پر جانے کی تاکید کرنا پڑی۔ قومی اسمبلی میں داخلے سے پہلے تمام ارکان کا ٹمپریچر چیک کیا گیا اور سینیٹائزر گیٹ بھی لگائے گئے تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کورونا سے بیمار ہیں اور وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ٹوئٹر بیان میں پہلے ہی شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا تھا، انھوں نے کہا تھا کہ کئی ارکان اور عملے کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اجلاس بلانا درست نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو