لیگیوں کے عسکری قیادت سے ملنے پر پابندی

مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے پارٹی رہنماوں کی عسکری قیادت اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات پر پابندی لگادی۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں نواز شریف نے کہا کہ حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی اور کس طرح بعض کی تشہیر کرکے مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہ کھیل اب بند ہوجانا چاہئے۔

نوازشریف نے لکھا کہ آج وہ اپنی جماعت کو ہدایات جاری کررہے ہیں کہ آئین پاکستان کے تقاضوں اور خود مسلح افواج کو اپنے حلف کی پاسداری یاد کرانے کیلئے آئندہ پارٹی کا کوئی رکن، انفرادی ، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔ قومی دفاع اور آئینی تقاضوں کیلئے ضروری ہوا تو پارٹی قیادت کی منظوری کے ساتھ ایسی ہر ملاقات اعلانیہ ہوگی اور اسے خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔

اس سے پہلے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے بیان پر انکشاف کیا تھا کہ عسکری قیادت (آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی) سے لیگی رہنماوں کی 2 ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلی 5 گھنٹے اور دوسری سوا 3 گھنٹے جاری رہی، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے یہ ملاقات خواجہ آصف اور احسن اقبال نے کی تھی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چند ہفتے پہلے لیگی رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے 2 ملاقاتیں کیں۔ یہ دونوں ملاقاتیں نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق تھیں۔ پہلی ملاقات اگست کے آخری ہفتے اور دوسری 7 ستمبر کو ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے واضح کیا کہ سیاسی مسائل پارلیمنٹ اور نوازشریف کے قانونی مسائل عدالت میں حل ہوں گے، پاک فوج کو ان معاملات سے دور رکھا جائے۔

اس سے پہلے نون لیگ کی رہنما مریم نواز نے اسلام آباد میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات نہیں کی۔

ٹرینڈنگ

مینو