جدوجہد کا فیصلہ، غلام نہیں رہ سکتا، نوازشریف

مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے حکومت مخالف جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کردیا، کہتے ہیں وہ ملک میں غلام بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر رہنا چاہتے ہیں ، عزت کی زندگی جینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس لاہور میں ہوا جس کی صدارت نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی، اجلاس میں مریم نواز ، احسن اقبال ، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

نواز شریف نے شہباز شریف کو مرد میدان قرار دیا اور کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے  جذبہ بڑھ گیا ، شہباز شریف نے پارٹی بیانیئے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا، وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی ، ظلم کی رات جلد ختم ہوگی، اچھا وقت جلد آئے گا، قوم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آگئی۔ ہم آزاد شہری نہیں ، جلد ہر چیز کا حساب ہوگا، قوم نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا تو تبدیلی چند ہفتوں میں آجائے گی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی بنایا گیا ، دوسرے لوگ ایوان میں آکر بتاتے ہیں آج ایجنڈا کیا ہوگا، جسے لایا گیا اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے، آپ کو ہی جواب دینا ہوگا۔ یہ بندہ تو قصور وار ہے ہی لیکن اصل قصور وار اسے لانے والے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 3 گھنٹے کے اجلاس میں آئندہ کسی بھی رہنما کی گرفتاری پر شدید احتجاج کا فیصلہ کیا گیا اور نواز شریف نے پارٹی کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں جارحانہ کردار ادا کرنے کی ہدایات کردی ہے۔

اجلاس کے بعد مریم نواز نے کہا کہ ملک میں کٹھ پتلی نظام مزید کٹھ پتلیوں کو جنم دیتا ہے، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی گرفتاری حکومت کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ عوام کو سلیکٹڈ اور  غیر جمہوری حکومت سے نجات دلائی جائے گی۔

ٹرینڈنگ

مینو