ایک کمپنی کو سہولت کیوں ؟ سپریم کورٹ

محمد عثمان

سپریم کورٹ کے ججز نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنادیا، این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی، کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے این ڈی ایم اے اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کر رہا ہے، باہر سے ادویات کس مقصد کیلئے منگوائی جارہی ہیں، اخراجات پر کوئی نگرانی بھی ہے یا نہیں، این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر نجی کمپنی کیلئے مشینری منگوائی ، کیا کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے، اتھارٹی نے ادویات منگوانے میں سہولت کاری کی، ڈیوٹی میں کسی کمپنی کو فائدہ نہیں دیا گیا۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا کہ 28 کمپنیوں نے بیرون ملک سے مشینری منگوانے کیلئے رابطہ کیا تھا، یہ کمپنیاں این 95ماسک نہیں بنارہی تھیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر تو صرف ایک نجی کمپنی این 95 ماسک بنارہی ہے، اس کا مالک تو 2 دن میں ارب پتی ہوگیا ہوگا، پتہ نہیں اس کے پارٹنر کون ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے مشرق وسطی سے واپس آنے والے محنت کشوں کا ذکر کیا اور ریمارکس دیئے کہ یہ مزدور کیا کریں گے، ملک میں تعلیم یافتہ لوگوں کو کھپانے کا کیا طریقہ ہے ؟ ہر ادارے کا این ڈی ایم اے جیسا حال ہے، اگر حکومت کی کوئی معاشی پالیسی ہے تو بتائیں ؟ عوامی مسائل کس طرح حل کئے جائیں گے ؟ کیا عوامی مسائل پر پارلیمٹ میں اتفاق رائے ہے ؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم ایک صوبے کے وزیراعلی کو آمر کہتے ہیں اس کی وضاحت کیا ہوگی، سندھ حکومت 400 لگژری گاڑیوں پر 4 ارب روپے کیسے خرچ کرسکتی ہے، ایسے اقدام کی اجازت نہیں دیں گے، 4 ارب روپے عدالت میں جمع کرائیں، سندھ سے 16 ملین ٹن گندم چوری ہوئی اس کا کیا بنا، 20 افراد حکومت کو یرغمال نہیں بناسکتے، سندھ حکومت لاک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے تو کرے لیکن عوام کو کھانا ، پانی اور بجلی کی سہولت فراہم کرے۔

ٹرینڈنگ

مینو