نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید النہیان کی ملاقات

ویب ڈیسک

اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور اسرائیلی وزیراعظم کی 2018 میں خفیہ ملاقات ہوئی تھی ، دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے ولی عہد نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں فلسطین کاز کی اہمیت کم ہونے کا تاثر مسترد کردیا ہے۔

ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان کا ملک بیت المقدس کو دارالحکومت بنائے جانے کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انھوں نے امن کو اسٹریٹیجک انتخاب قرار دیا اور کہا کہ یہ فلسطین کاز پر سمجھوتہ نہیں۔

اس سے پہلے یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کے بعد تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی اور امریکی حکام گزشتہ روز اسرائیل کی کمرشل پرواز کے ذریعے ابوظہبی پہنچے تھے، یہ اسرائیلی پرواز سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے یو اے ای گئی تھی۔

اسرائیل ، امریکا اور یو اے ای کے پرچم لگے اس طیارے پر عربی ، انگریزی اور عبرانی میں امن لکھا گیا تھا۔ ابوظہبی آنے والے 50 سے زائد افراد پر مشتمل وفد میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر ، اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر اور سربراہ اسرائیلی قومی سلامتی کونسل بھی شامل ہیں۔

ابوظہبی آمد پر امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر نے انکشاف کیا تھا کہ عنقریب دیگر عرب اور مسلم ممالک بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرلیں گے۔

اسرائیل کے اہم ترین اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کی ابوظہبی میں 2018 میں ملاقات ہوئی تھی ، خوشگوار ماحول میں ملاقات کے بعد تعلقات برقرار رہے ، اس اہم میٹنگ میں موساد کے سربراہ بھی موجود تھے۔ ایک سال پہلے اسرائیلی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ نے امریکی اور اماراتی نمائندوں سے واشنگٹن میں بھی ملاقات کی تھی۔

ٹرینڈنگ

مینو