نیوزی لینڈ : مساجد پر حملے سے متعلق نئے انکشاف

سانحہ کرائسٹ چرچ میں ملوث ملزم کے اصل مقاصد سامنے آگئے، آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملے کے کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔

ملزم برینٹن ٹیرنٹ کی سزا سے متعلق کیس کی سماعت کرائسٹ چرچ کی عدالت میں 4 روز جاری رہے گی۔ ملزم کو قیدیوں کے لباس میں عدالت لایا گیا اور وہ دوران سماعت خاموش رہا البتہ شہدا کے ورثا زارو قطار روتے رہے۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم نے 2 مساجد کے بعد تیسری مسجد کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، وہ دوران نماز زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کرکے مساجد جلانا چاہتا تھا اور کئی مہینوں سے منصوبہ بنارہا تھا۔

پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے مساجد سے متعلق جو معلومات جمع کی تھیں ان میں مساجد کا فلور پلان بھی شامل تھا۔ وہ حملوں سے چند ماہ پہلے کرائسٹ چرچ گیا جہاں اس نے اپنے پہلے ٹارگٹ النور مسجد پر ڈرون اڑایا، ملزم نے ایشبرٹن مسجد اور لائن ووڈ اسلامک سینٹر کو بھی نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

واقعے کی ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم نے مساجد پر حملے سے پہلے گلی میں لوگوں کو نشانہ بنایا تھا، ملزم پر 51 قتل، 40 اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی اور اسے عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ کو تمام عمر جیل میں رکھنے کی سزا دی گئی تو ایسا نیوزی لینڈ میں پہلی بار ہوگا۔

آسٹریلوی شہری نے 15 مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر نماز جمعہ کے دوران حملے کئے تھے ، اس دوران 2 مساجد میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور 9 پاکستانی شہریوں سمیت 50 افراد شہید ہوئے۔ ملزم حملے کی ویڈیو اپنے ہیلمٹ پر لگے کیمرے سے سوشل میڈیا پر لائیو ٹیلی کاسٹ کرتا رہا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو