کار انڈسٹری کا جنازہ ، سیل صفر

کورونا وبا نے پاکستان میں کار انڈسٹری  کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اپریل میں کچھ ایسا ہوا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے لگائے گئے لاک ڈاون نے کباڑا کردیا، اپریل میں ملک بھر میں ایک بھی کار نہیں بیچی جاسکی جبکہ اپریل 2019 میں 19 ہزار 363 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

کار ڈیلرز تو گھر پر بیٹھے ہی رہے ، پلانٹ آپریشنز بھی اپریل میں بند رہے اور نئی گاڑیاں تیار ہی نہیں کی جاسکیں۔

اس مالی سال گاڑیوں کی فروخت میں 52 فی صد کمی آئی ، پائیداری میں شہرت کی حامل جاپانی کمپنی ہنڈا کی گاڑیاں 64 فیصد کم فروخت ہوئیں۔

انڈس موٹرز اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی کی تیارکردہ گاڑیوں کی فروخت باالترتیب 54 فیصد اور 47 فیصد کم ہوئی۔

ملک میں چند برسوں سے موٹرسائیکلوں کا استعمال بڑھا ہے اور اب لڑکیوں نے بھی بائیکس چلانا شروع کردی ہے، اس کے باوجود بائیکس کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور صرف 2 ہزار 7 سو 83 بائیکس بک سکیں ، کورونا وبا سے پہلے کم سے ایک لاکھ موٹرسائیکلیں ماہانہ فروخت ہوتی تھیں۔

ٹرینڈنگ

مینو