پنجاب : کورونا متاثرہ علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

اسرار خان

وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کا مطلب معاشی سرگرمیاں بند کرنا ہے ، ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

وزیراعظم کی زیرصدارت صوبائی دارالحکومت میں اجلاس ہوا، اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا، ضوابط پر عمل نہ کرنے والے کاروباری مراکز بند کرادیئے جائیں گے۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ سوچ سمجھ کر لاک ڈاؤن کیاجانا چاہئے ، کورونا کا پھیلاو روکنا اور غریب پر بوجھ نہ ڈالنا ترجیح ہونی چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب انتظامیہ اور رضاکاروں کے ذریعے عوام پر سختی کرنی پڑے گی، عوامی مقامات پر فیس ماسک کا استعمال لازمی بنایا جائے گا، ہاٹ اسپاٹ کو ٹریس کرکے علاقوں کو سیل کیا جائے گا۔ کاروبار ، مارکیٹس اور فیکٹری جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا بند کرادی جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ختم ہوا تو لوگوں نے سمجھا بیماری ختم ہوگئی ، یہی وجہ ہے کہ کیسز بڑھے۔  جولائی میں مسائل زیادہ ہونے کا خدشہ ہے ، وزیراعظم نے بتایا کہ وہ اب دیگر صوبوں کے بھی دورے کریں گے اور وزیراعظم ہاوس سے صورتحال مانیٹر کی جائے گی۔

ٹرینڈنگ

مینو