بجٹ : نیا ٹیکس نہیں لے گا

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ کورونا سے مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے نقصان ہوا، حکومت نے اخراجات کم کئے اور خسارے میں 74 فیصد کمی کی گئی۔

اقتصادی سروے سے متعلق اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران مشیر خزانہ نے بتایا کہ ایک سال میں اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لیا گیا جبکہ ماضی میں لئے گئے قرضوں کی مد میں 5 ہزار ارب روپے واپس کئے گئے، آئندہ سال 3 ہزار ارب روپے واپس کریں گے۔

مشیرخزانہ نے نئے قرضوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے قرضوں کی واپسی کیلئے قرض لینے پڑے، اس سال زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

حفیظ شیخ نے بتایا کہ صنعتی شعبے کی گروتھ منفی 2 اعشاریہ 64 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کی گروتھ منفی 7 اعشاریہ ایک فیصد رہی جبکہ معاشی شرح نمو منفی 0 اعشاریہ 4 فیصد رہی۔

انھوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی گروتھ 2 اعشاریہ 67 فیصد رہی، حکومت نے کسانوں سے 280 ارب روپے کی گندم خریدی، چھوٹے کاروباری افراد کیلئے 3 ماہ کے بجلی بلوں میں ریلیف دیا گیا۔

مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہے بجٹ میں نئے ٹیکس نہ لگائیں ، پہلے سے عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی اور غریب افراد کو مراعات دی جائیں گی، کورونا کے باعث ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کا ہدف (4 ہزار 700 ارب روپے)ٰ حاصل نہ ہوسکا، رواں سال فی کس آمدنی 2 لاکھ 24 ہزار ہدف کے برعکس 2 لاکھ 14 ہزار جبکہ مہنگائی 8 اعشاریہ 5 کے بجائے 9 اعشاریہ ایک فیصد رہی۔

ٹرینڈنگ

مینو