3437 ارب خسارے کا بجٹ : نیا ٹیکس نہیں لگا

قرۃ العین

وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے 21-2020 کیلئے 72 کھرب 94 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا ہے ، اس میں 3 ہزار 437 ارب روپے خسارہ ہے اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ حماد اظہر نے بتایا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ٹیم بنائی گئی جس نے 45 اداروں کی نجکاری اور 14 صوبوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ دیا ہے۔

بجٹ میں رکشے اور 2 سو سی سی تک کی موٹرسائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ،  ڈبل کیبن گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے اور مقامی سطح پر تیار کئے گئے موبائل فون پر ٹیکس کم کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔

کیفین والے انرجی ڈرنکس پر 25فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے اور سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں تاجروں کو رعایت دی گئی اور شناختی کارڈ کے بغیر خریدو فروخت کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی۔

بجٹ میں وفاقی ریونیو کا تخمینہ 3 ہزار 700 اور اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 137 ارب روپے لگایا گیا ، 3 ہزار 437 ارب روپے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7 فیصد بنتا ہے، دفاع کیلئے ایک ہزار 289 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے ہے۔

ٹڈی دل ختم کرنے کیلئے 10 ارب ، خوراک اور زراعت کیلئے 12 ارب ، تعلیم کیلئے 30 ارب ، صحت کیلئے 20 ارب ، سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 20 ارب روپے ، توانائی اور بجلی کیلئے 80 ارب ، پاکستان ریلوے کیلئے 40 ارب ، شاہراہوں کیلئے 118 ارب اور موسمیاتی تبدیلی کیلئے 6 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے 12 سو ارب روپے رکھے گئے ، 71 ارب روپے طبی آلات خریدنے کیلئے اور 150 ارب روپے غریب خاندانوں کیلئے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں فنکاروں کی امداد کیلئے رقم 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کی گئی ، مجموعی ریونیو کا تخمینہ 6 ہزار 573 ارب روپے لگایا گیا، اس میں نان ٹیکس ریونیو ایک ہزار 610 ارب روپے ہے۔

ہوٹل انڈسٹری پر 6 ماہ کیلئے ٹیکس کی شرح صفر اعشاریہ 5 فیصد کردی گئی ہے جو پہلے ڈیڑھ فیصد تھی۔ ایمرجنسی فنڈ کیلئے 100 ارب ، آزاد جموں کشمیر کیلئے 55 ارب، گلگت بلتستان کیلئے32 ارب، خیبر پختون خوا کے قبائلی اضلاع کیلئے 56 ارب، سندھ کیلئے 19 ارب اور بلوچستان کیلئے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو