سندھ ہمارا ہے ، لوہا منوائیں گے، شاہ محمود

اپوزیشن نے کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے اقدامات ناکافی قرار دے کر لاک ڈاؤن سے متعلق حکومتی پالیسی مسترد کردی، نون لیگ نے 4 سے 6 ہفتے کے موثر لاک ڈاؤن کا مطالبہ کردیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ قائد حزب اختلاف راجا ظفرالحق نے کہا کہ حکومت کو خود اجلاس بلانا چاہئے تھا، وبا کے دوران اتحاد کی ضرورت تھی لیکن وزیر اعظم نے تقسیم پیدا کی اور کہا گیا لاک ڈاؤن اشرفیہ نے کرایا۔

راجہ ظفر الحق نے کہا کہ تاثر دیا جا رہا ہے سندھ حکومت عوام دشمن ہے ، انھوں نے اپوزیشن سے متعلق حکومتی رویئے کو افسوسناک قرار دیا۔ نون لیگ کے سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ بھوک اور موت کے خلاف موثر پلان دینا حکومت کا کام ہے ، لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطلب ہے جو بچ جائے گا وہ ملک چلائے گا،  انھوں نے 4 سے 6 ہفتے کے موثر لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا۔

پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمان میں آتے نہیں ، وزیراعظم لاپتہ ہیں ، ان کی پالیسی لاپتہ ہے ، ملک کون چلا رہا ہے ، ملک کو یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن تقسیم کا سامنا ہے ، آج اسمارٹ تو کل کریزی لاک ڈاؤن ، پتہ نہیں ملک میں کیا کیا کیا جا رہا ہے ؟ حکومتی پالیسی ایسی ہے جیسے آج پھر جینے کی تمنا ہے کل پھر مرنے کا ارادہ ہے، انھوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی پر حکومتی موقف کو غیر واضح قرار دیا۔

وزیرخارجہ نے سندھ حکومت کے آرڈیننس پر اعتراض کیا اور کہا کہ آپ بجلی بل معاف کیسے کرسکتے ہیں ؟ آپ ہوتے کون ہیں بل معاف کرنے والے ؟ جیسے پنجاب میں لوہا منوایا اب سندھ میں ہم اپنا لوہا منوائیں گے، تیاری کرلو ۔  سندھ ہمارا ہے ، اس کے دارالحکومت میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی اکثریت ہے، آپ صوبے کے ٹھیکیدار نہ بنیں۔ وفاق کی علامت والی جماعت سے سندھ کی بو آرہی ہے۔ عمران خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کیا، حکومت نے اٹھارویں ترمیم دفن کرنے کی بات بھی نہیں کی البتہ کمزور نکات کو درست کیا جانا چاہئے۔ بعد میں ایک انٹرویو کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بلاول بھٹو جو بات کرنا چاہتے ہیں کھل کر کریں۔

ٹرینڈنگ

مینو