کورونا: حکومت نے اپوزیشن سے پلان مانگ لیا

حکومت نے اپوزیشن سے کورونا وائرس کے بارے میں متبادل پلان دینے کا مطالبہ کردیا۔

وزیراطلاعات شبلی فراز نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اپنا منصوبہ بتائے ،کیا پورے ملک میں کرفیو لگادیں ؟ سندھ نے نماز اور تراویح محدود کی تو کیا مساجد بند کردی جائیں ؟ جب اپوزیشن نے اجلاس بلایا تو پھر ان کی قیادت شرکت کیوں نہیں کرتی۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ مشاہد اللہ نے کرپشن کا الزام لگایا ، شہزاد اکبر نے تفصیلات کے ساتھ 10 سوال پوچھے تھے ان کا تو جواب ابتک نہیں ملا۔ کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

وزیراطلاعات نے بتایا کہ اللہ کا کرم ہے پاکستان میں کورونا سے ہلاکتیں کم ہوئیں،  کسی صوبے سے امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا ، اپوزیشن معاملے پر سیاست نہ کرے،  مشاہد اللہ کہتے ہیں کہ احساس پروگرام میں احسن اقبال کے نام پر بھی پیسہ آیا ، مذاق میں کہتا ہوں یہ نام بھی آپ نے ڈلوایا ہوگا کیونکہ آپ کہیں کا پیسہ چھوڑتے ہی نہیں۔

شبلی فراز نے اپوزیشن رہنماوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ وہ ہے جو بیمار ہو تو علاج کیلئے بیرون ملک جاتی ہے ، جتنی اپوزیشن لیڈر کی جان اہم ہے اتنی ہی عوام کی بھی  ہے۔ وہ کیوں نہیں آتے۔

اس سے پہلے نون لیگی سینیٹر  مشاہد اللہ خان نے کہا کہ وزیراعظم نے ذمے داری نہیں نبھائی ، وزیراعظم اجلاس میں نہیں آئے ، وہ کیا کر رہے ہیں پتا تو لگے، حکومت خود اشرافیہ ہے ، کیا کابینہ میں موجود لوگ اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتے ؟ کورونا بحران کے دوران ہی چینی اور گندم کے اسکینڈل آرہے ہیں ، رمضان میں تو کرپشن چھوڑ دیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت ایک پیج پر نہیں، بجٹ سماجی شعبے پر خرچ نہیں کیا جارہا ، ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک میں صرف 1300 وینٹی لیٹرز ہیں اور میتوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ اجلاس میں کورونا وبا کے دوران بروقت امداد اور تعاون پر چین کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

ٹرینڈنگ

مینو