کورونا کے خلاف حکمت عملی بتانے کا مطالبہ

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کا انفیکشن ریٹ 19 فیصد ہے، حکومتی بیانات سن کر لگتا ہے ملک میں اٹھارویں ترمیم ختم کردیں تو کورونا ختم ہوجائے گا۔

نون لیگی رہنما نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزرا پر تنقید کی اور کہا کہ وزیرخارجہ نے کوئی کام کی بات بتائی نہ وزرا نے، شاہ محمود قریشی نے کہا روزانہ 20 ہزار ٹیسٹ کئے جارہے ہیں جبکہ شفقت محمود کہتے ہیں روزانہ 40 ہزار ٹیسٹ ہورہے ہیں۔ ایک وزیر کہتا ہے گورنر نیویارک نے پاکستان کی تعریف کی اور پاکستان کو دیکھ کر اسمارٹ لاک ڈاؤن شروع کردیا۔ ایوان کو ایک کاغذ پر لکھی حکمت عملی دے دی جائے۔ انھوں نے سوال کیا کہ حکومت کا ٹیسٹنگ پروٹوکول کیا ہے ؟ کوئی بتائے کس آدمی کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے ؟ یہاں تو شوقیہ ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے تنقید کی کہ وزیراعظم نے کہا تھا لاک ڈاون نہیں ہونے دوں گا پھر کہا اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کردیا۔ یہ اشرافیہ کون ہے ؟ جس دن وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں کروں گا اسی روز وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر کرفیو تھا۔ وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ آپریٹ کرنے والے کو پولیو پروگرام کا انچارج لگایا پھر ہٹادیا کہ وہ نالائق تھا، نالائق تو لگانے والا ہوتا ہے۔

نون لیگی رہنما نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں طے کیا گیا تھا کہ صوبوں کو پی پی ای نہیں دیں گے۔  کہتے ہیں وفاق کا صحت کے معاملے سے تعلق نہیں، وزرا پڑھ لیں وبائی امراض پر ردعمل دینا کس کی ذمے داری ہے۔

وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ امریکا اور یورپ میں بھوک کے باعث لوگ احتجاج کر رہے ہیں، لاک ڈاون سے متعلق فیصلوں پر تنقید کرنے والوں نے کیا روز کمانے کیلئے نکلنے والوں کی پروا کی ؟ کیا غریب کا خیال رکھنا کنفیوژن ہے ؟ اٹھارویں ترمیم دیکھ لیں ، بجلی صوبائی معاملہ نہیں ، اسکول بند کرنے اور امتحانات سے متعلق فیصلہ مشاورت سے کیا گیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو