کلبھوشن کیلئے این آراو، اپوزیشن کا احتجاج

وزارت قانون نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کردیا، اپوزیشن ارکان اس آرڈیننس کو این آر او قرار دیتے ہوئے واک آؤٹ کرگئے۔

کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے احتجاج کیا، رہنماوں نے شدید اعتراض اٹھائے اور ارکان نعرے بازی کرتے رہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد کہا تھا وہ کوئی این آر او نہیں دیں گے ، جتنے این آر او عمران خان نے دیئے کسی آمر نے بھی نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن مانتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کرتا تھا، اعتراف جرم کے باوجود اس کو این آر او دیا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارتی پائلٹ حملہ کر کے گرا اسے بھی چائے پلا کر واپس بھیج دیا گیا، طالبان کمانڈر احسان اللہ احسان کو این آر او دیا گیا، جہانگیر ترین ، بی آرٹی ، بلین ٹری سونامی، چینی اور آٹا چوری پر بھی این آر او دیئے گئے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا نیب کو سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس لئے احتساب کا نیا ادارہ بنائیں جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کا بلاتفریق احتساب کرے۔ بلاول بھٹو نے تقریر کے بعد کورم کی نشاندہی کی اور اپوزیشن ارکان واک آوٹ کرگئے۔

ٹرینڈنگ

مینو