دفتر خارجہ نے کشمیریوں کی جدوجہد ناکام بنائی، شیریں مزاری

محمد عثمان

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ دفتر خارجہ اور دیگر اداروں نے وزیراعظم کی کوششوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کو ناکام بنادیا۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تقاریر اور بیانات سے کشمیر کا بیانیہ بدلا، دفتر خارجہ وزیراعظم کا بیانیہ لے کر چلتا تو حالات مختلف ہوتے اور دنیا کشمیر پر پاکستان کی بات ضرور سنتی، پاکستانی سفارت کار آرام ، تھری پیس سوٹس اور کلف لگے کپڑے پہننے اور ٹیلی فون کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔

وفاقی وزیر نے شاہ محمود قریشی کا نام لئے بغیر کہا کہ وزیرخارجہ صرف وزیرخارجہ کو فون کرلے گا یا عالمی فورم پر جا کر بات کرلے گا اور ہم سمجھتے ہیں یہ کافی ہے۔ یہ کافی نہیں ، اب دنیا بدل چکی ہے۔

وفاقی وزیر نے بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج خواتین کی بے حرمتی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، دنیا میں سفارت کاری کے نئے ذرائع آگئے ہیں جنہیں استعمال کرنا ہوگا، جب مزاحمتی کلچر کو لے کر چلیں گے تو دنیا میں مضبوط ردعمل آئے گا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت حاصل ہوگی، مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری کا طریقہ کار تبدیل کرنا ہوگا۔

شیریں مزاری نے کہا کہ برکینا فاسو نے بلیک لائیوز میٹر معاملے پر یو این ہیومن رائٹس کونسل کی میٹنگ بلائی،اس نے امریکا کے خلاف قرارداد بھی منظور کرلی، کیا پاکستان برکینافاسو جتنا سفارتی وزن بھی نہیں رکھتا ؟ کشمیریوں کی جان ہمارے لئے اہم ہے اب ہمیں بات کرنی پڑے گی۔

ٹرینڈنگ

مینو