مقبوضہ کشمیر میں مظالم: 5 اگست یوم استحصال

پاکستان نے بھارتی مظالم کے شکار کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان کردیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیراطلاعات شبلی فراز اور وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارت نے 5 اگست کو کشمیریوں سے ان کا پرچم چھینا، شناخت ختم کی اور کشمیر 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی ، ہندو پنڈت، مسلمان اور بدھ مت کے پیروکاروں نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا۔ آج شائننگ انڈیا سلگ رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ سلامتی کونسل کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرتی ہے، آر ایس ایس نے اسے بھارت میں ضم کرنے کی کوشش کی اور مقبوضہ وادی کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون بنادیا گیا۔

وفاقی وزرا نے حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ نہ کشمیری جھکیں گے اور نہ افواج پاکستان پیچھے ہٹے گی، خون بولتا ہے اور خون بولے گا۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں عوامی سرگرمیاں معطل ہیں، دکھاوے کا انٹرنیٹ کھولا گیا، لاک ڈاؤن کو ایک سال ہونے والا ہے، کورونا لاک ڈاؤن نے دنیا کو کشمیریوں کی بے بسی کا احساس دلایا۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر سے متعلق عملی اقدام کرے باتیں نہیں، ایک سال میں مسئلہ کشمیر 3 بار سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا، ہیومن رائٹس کونسل جینیوا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ہماری نظر سری نگرپر ہے، کشمیر ہائی وے کو 5 اگست سے سری نگر ہائی وے کا نام دیا جائے گا۔ سری نگر ہائی وے ہمیں کشمیرتک لے جائے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو