طیارہ حادثہ: اصل کرداروں کو بچانے کا الزام

پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے طیارہ حادثے کی تحقیقات کو غلط رخ دے کر اصل کرداروں کو بچانے کی کوشش کا الزام لگادیا۔ جبکہ طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر اب تک نہیں مل سکا ہے۔

ترجمان پالپا نے کہا کہ انجن کے رن وے پر لگنے کی اطلاع پائلٹ کو کیوں نہیں دی گئی، ایمرجنسی لینڈنگ کیلئے لمبا روٹ کیوں دیا گیا ، اس کی بھی تفتیش ہونی چاہئے۔

پالپا ترجمان نے الزام لگایا کہ پہلی اور دوسری لینڈنگ کی تفصیل کو ملا کر تحقیقات کو غلط رخ دیا جارہا ہے اور اصل کرداروں کو بچانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

پی آئی اے کا طیارہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آیا تھا اور ایئرپورٹ پر پہلی لینڈنگ کی کوشش کے بعد ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا تھا، طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر اب تک نہیں مل سکا ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ملبے سے بلیک باکس کا ایک حصہ فائل ڈیٹا ریکارڈر ملا ہے ، ہوسکتا ہے وائس ریکارڈر کسی گھر میں گرا ہو جس کی تلاش جاری ہے۔

انھوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر انھیں کوئی پرزہ ملے تو تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے کردیں۔ طیارہ حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور صرف 2 محفوظ رہے ہیں۔ 23 لاشوں کی شناخت اب نہیں ہوسکی اور ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو