ملتان میں پکڑ دھکڑ ، جلسہ ہوگا، پیپلزپارٹی

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا 30 نومبر کو ہونے والا جلسہ روکنے کیلئے ملتان سیل کردیا گیا ، رات بھر پکڑ دھکڑ کی جاتی رہی، پولیس نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت درجنوں جیالوں کو گرفتار کرلیا۔

ملتان کا قاسم باغ اسٹیڈیم رات بھر میدان جنگ بنا رہا، پیپلزپارٹی کے کارکن کرین لے کر کنٹینر ہٹانے پہنچے تو پولیس نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر لاٹھی چارج کردیا، اہلکارؤں نے پکڑ دھکڑ کی اور رات گئے اسٹیڈیم خالی کرالیا۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے کارکن اسٹیڈیم کے تالے توڑ کر اندر داخل ہوئے تھے۔

پولیس نے تالے توڑنے پر یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹوں سمیت 70 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جبکہ کیٹرنگ کا سامان دینے والوں کے کئی گوداموں کو سیل کرکے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

ملتان پولیس نے پی ڈی ایم کے 30 سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے اور کمشنر کا کہنا ہے کہ کورونا ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنے والوں پر مقدمات درج کیے گئے ہیں، جلسے اور ریلیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قاسم باغ اسٹیڈیم جانے والے راستے پر دوبارہ کنٹینر رکھ دیئے گئے ہیں البتہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے باوجود ملتان جلسہ ہوگا۔

جلسے میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی نمائندگی ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری کریں گی۔ بلاول بھٹو نے کارکنوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاسم گیلانی سمیت مختلف کارکنان کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی حکومت پی پی پی کے یوم تاسیس سے بوکھلا گئی ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، 30 نومبر کو پی ڈی ایم جلسے کی میزبانی کریں گے۔

پولیس نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ پولیس نے بدترین کریک ڈاؤن کیا، پولیس نے موسیٰ گیلانی کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا، جتنی مرضی گرفتاریاں کر لیں جلسہ تو ہو گا۔ پولیس نے علی حیدر گیلانی کو بھی حراست میں لیا لیکن کچھ دیر بعد چھوڑ دیا۔ نون لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پولیس گردی سے پتہ چل گیا سیلیکٹڈ گھبرا گیا ہے۔  پولیس کو غیر سیاسی بنانے کے دعوے دار کا منہ کالا ہو گیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو