پی آئی اے کے 141پائلٹس گراونڈ

محمد عثمان

وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں اصلاحات کا کام شروع کردیا گیا ہے، جن پائلٹس کے خلاف انکوائری ہوئی ان کی تعیناتی 2018 میں ہوئی تھی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران غلام سرور خان نے بتایا کہ پی آئی اے میں 450 پائلٹس ، ایئربلو میں 87 اور سیرین ایئر میں 47 پائلٹس کام کر رہے ہیں ، 262 مشتبہ لائسنس والے پائلٹس میں سے 141 پی آئی اے کے ملازم ہیں، ایئربلو کے 9 اور سیرین ایئر کے 10 پائلٹس بھی مشتبہ ہیں۔ 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے اور 9 پائلٹس نے جعلی ڈگریوں کا اعتراف کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ تمام مشکوک لائسنسز رکھنے والے پائلٹس کو جہاز اڑانے سے روک دیا گیا ہے، پی آئی اے کو بھی خط لکھ کر کہا ہے کہ 141 پائلٹس کو فلائنگ سے روک دیا جائے ، مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی فہرست متعلقہ اداروں کو بھیج دی گئی ہے اور نام ویب سائٹ پر بھی ڈال دیئے ہیں۔

غلام سرور خان نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد جعلی لائسنس والے پائلٹس کو ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا۔ جعلی لائسنس دینے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 5 افراد کو معطل کیا ہے۔ جعلی لائسنس ایشو کرنے میں آئی ٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملک میں 753  پائلٹس  ہیں،  121 پائلٹس کا ایک پیپر کسی اور نے دیا، 2 بوگس پیپرز والے  39 پائلٹس ہیں،  3 بوگس پیپرز والے 21  ، 4 بوگس پیپرز والے 15 ،  5 بوگس پیپرز والے  11 ، 6 بوگس پیپرز والے 11 ، 7 بوگس پیپرز والے 10 اور  آٹھوں کے آٹھوں پیپر کسی اور سے دلوانے والے 34 پائلٹس ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو