تحقیقات سے پہلے تنقید ؟ اصل پی آئی اے ؟

روبینہ ظفر

سیاہ دھواں، لوگوں کی چیخ و پکار اور شعلوں میں جلتے مسافروں کی بے بسی ، لواحقین اور ماڈل کالونی کے رہائشیوں سمیت پاکستانی قوم اس سانحے کو تاعمر نہیں بھول سکے گی  ، اگرچہ موت کے اس رقص میں دو زندگیاں معجزانہ طورپر محفوظ بھی رہیں  لیکن جو 97 چراغ گل ہوئے، وہ قومی ائرلائن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے۔ 

واقعے کی تصاویر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر آتے ہی ہر شخص کو اشکبار کرگئیں ، سانحہ صرف یہی نہیں تھا بلکہ اس کے بعد ایک سانحہ اور ہوا جس کے نتائج بھی بھیانک تھے۔ وہ سانحہ تھا الزام تراشیاں ! جس میں نہ صرف پی آئی اے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس کے اس پائلٹ کو بھی نہ بخشا گیا جس کی اپنی لاش بھی ماڈل کالونی کے کسی گھر کی چھت سے ملی۔

اس واقعے کے فورا بعد سوشل میڈیا پر پی آئی اے کے خلاف میمز وائرل ہوئیں اور اپنی ہی قومی ائرلائن کو ہم نے کسی عدالت میں جانے اور کیس چلنے سے پہلے ہی سزا سنا دی ، نوبت یہاں تک پہنچی کہ کیپٹن سجاد گل کے بوڑھے والد کو بیٹے کی لاش دفنانے سے پہلے اشکبار آنکھوں کے ساتھ میڈیا پر آکر کہنا پڑا کہ ان کا بیٹا سترہ ہزار سے زائد فلائنگ آورز مکمل کرنے والا ذمے دار پائلٹ تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پی آئی اے کے طیارے ناکارہ ہیں ؟ کیا اس ایئرلائن میں غیر تربیت یافتہ پائلٹ بھرتی کئے جاتے ہیں ؟ اور اس ایئر لائن کے طیاروں کی مرمت شیر شاہ سے خریدے ہوئے پرزوں سے کر دی جاتی ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ ہماری قومی ایئرلائن کے پاس ماہر ہوا باز اور تکنیکی اعتبار سے جدید طیارے موجود ہیں۔ جسے بوڑھا فلیٹ کہہ کر مذاق اڑایا جارہا ہے ، اسی فضائی بیڑے میں دور کی مسافت کی پروازوں کیلئے بوئنگ کے جدید 777 اور ائئر بس کے 320 طیارے موجود ہیں ۔ بوئنگ 777 دس سے بارہ سال پرانے ہیں جس کی ایک قسم ، لانگ رینج کا سب سے پہلا طیارہ پی آئی اے نے حاصل کیا تھا۔

درمیانے اور مختصر فاصلے کیلئے 320 پی آئی اے کے زیر استعمال ہیں۔ اس سے پہلے بوئنگ 737 – 300 کو 2016 تک ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اے ٹی آر کے 42 اور 72 طیارے مختصر پروازوں کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ یہ کم ایندھن اور مختصر فاصلے کی پروازوں کے لئے کامیاب طیارے ہیں۔ اگرچہ 2014 میں یورپی یونین کی پابندیوں کے بعد  طیارے ریٹائر  کئے جا چکے ہیں۔ کارگو لے جانے والے طیاروں پر یورپی یونین کی طرف سے لگائی گئی پابندی بعد ازاں اٹھا لی گئی تھی لیکن ہماری تنقید اب تک جاری ہے۔ اس تنقید میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جنھوں نے کبھی تحقیق نہیں کی جبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اس ملک اور اس کی ایئر لائن میں رکھا ہی کیا ہے کہہ کر فلسفہ بگھارتے نظر آتے ہیں۔

حیرت اس وقت ہوئی جب طیاروں کے پرزوں پر وہ لوگ بھی بیان دیتے نظر آئے جو آج تک کسی جہاز تو کیا ایئرپورٹ کو بھی اندر سے نہیں دیکھ سکے اور جنھوں نے بچپن سے اب تک آسمان پر جہاز اڑتے دیکھ کر صرف ٹاٹا ہی کیا ہے۔ پی آئی اے کی بنیاد 29 اکتوبر 1946 کو اورینٹ ایئرویز کی حیثیت سے رکھی گئی تھی ،  1955 میں بین الاقوامی خدمات کا آغاز کیا گیا۔ پی آئی اے بوئنگ 707  مارچ 1960 کو تجارتی خدمات میں شامل کرنے کے ساتھ جیٹ طیاروں کو چلانے والی پہلی ایشین ایئر لائن بن گئی ، 1964 میں چین کی پرواز کرنے والی پہلی غیر کمیونسٹ ایئر لائن بنی۔ 10 نومبر 2005 کو بوئنگ 777 / 200LR کا استعمال کیا گیا ، اس کا مقصد تجارتی تھا ، جہاز کے ذریعے دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ پرواز مکمل کی گئی۔ یہ پرواز ہانگ کانگ اور لندن کے درمیان 22 گھنٹے 22 منٹ جاری رہی۔ پی آئی اے پاکستان کی سب سے بڑی ایئر لائن ہے اور 30 ​​سے ​​زیادہ طیارے چلاتی ہے۔ ایئر لائن روزانہ 100 پروازیں آپریٹ کرتی ہے ، جس میں  18 ڈومیسٹک اور 25 بین الاقوامی فلائٹس شامل ہیں ، تجارتی پروازوں کے علاوہ پی آئی اے کے پاس نیویارک سٹی میں روز ویلٹ ہوٹل اور پیرس میں سوفٹیل پیرس سکریٹ ہوٹل بھی ہے۔ ایئرلائن کے متعدد کوڈشیئر اور انٹر لائن معاہدے ہیں۔

پی آئی اے ایئرلائنز کو گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات بھی فراہم کرتی ہے جن میں ایئرچائنا سدرن ایئر لائنز ، گلف ایئر ، قطر ایئرویز ،عمان ایئر ، سعودیہ ، سری لنکن ایئرلائنز اور ازبکستان ایئرویز شامل ہیں۔ پی آئی اے سندھ میں بی ٹی آئی ٹی ، قادن واری اور سہون شریف کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں تیل و گیس کمپنیوں اور دیگر صارفین کیلئے نجی چارٹر پروازیں چلاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی امن فوج کے ایڈہاک چارٹر افریقا اور مشرقی یورپ ، ایشیاء (جنوبی کوریا ، افغانستان ، تاجکستان ، مشرقی تیمور) اور بہت سے دیگر بین الاقوامی مقامات پر بھی کئے جاتے ہیں۔ پی آئی اے ہر سال 2 ماہ تک (قبل از اور بعد) حج آپریشن کرتی ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ حجاج کو سعودی عرب پہنچاتی رہی ہے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن ڈیڈ باڈیز کو بلا معاوضہ لے جانے کی خدمت میں بھی پیش پیش رہی ہے۔ دنیا کی سر فہرست ایئرلائنز تابوتوں کو آبائی ملک منتقل کرنے کے لئے بھاری رقم وصول کرتی ہیں البتہ پی آئی اے نے غمزدہ افراد کے درد و غم کم کرنے اور ان کا دکھ بانٹنے کی اعلی  مثال قائم کی ہے۔ یہ وہی ایئرلائن ہے جس پر لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ میں تاخیر اور عید کی چھٹیوں پر عیش کرنے کے الزامات ہیں۔ آخر ہم کب تک خود ساختہ عدالت میں اپنے ہی قومی اداروں کو پھانسی چڑھاتے رہیں گے اور عدالتی فیصلوں سے پہلے اپنی گروپ ڈسکشنز میں سزائیں سناتے رہیں گے ؟ ہم دہشتگرد صرف اسے سمجھتے ہیں جو کسی کو گولیوں سے بھون دے لیکن اپنی زبان کے تیروں سے لہولہان روحوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ، آخر کب تک بدقسمت طیارے کے عملے کے بوڑھے والدین عدالتی فیصلوں سے پہلے وضاحتیں دیتے رہیں گے  ؟ کم تعلیم یافتہ لوگوں کی بھرتیاں ، سیاسی ڈیوٹیاں ، بین الاقوامی جرمانے لگنا یا حادثات ہونا ان تمام الزمات سمیت متعدد کیسز کیا یہ صرف اسی ایک ادارے کے مسئلے ہیں یا یہ مسائل صرف پاکستان کے ہیں ؟ کیا ہر ملک میں عوامی عدالت لگا کر بنا تحقیق کئے سزائیں دی جارہی ہیں؟ اور کیا یہی ہمارا قومی فریضہ ہے ؟ ضرورت طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات  کی ہے  نہ کہ ہوا میں تیر چلانے کی۔

 

ٹرینڈنگ

مینو