ای سی ایل کا معاملہ ، خواجہ آصف اور اسد عمر آمنے سامنے

ویب ڈیسک

نون لیگ نے گورنر اسٹیٹ بینک اور مشیر خزانہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ انکا ای سی ایل سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ، خواجہ آصف نے نواز شریف کو پھنسا دیا ، بے چارے جعلی رپورٹس لے کر باہر بیٹھے ہیں۔ جعلی رپورٹس لے کر اگر آپ ملک سے فرار ہوسکتے ہیں تو ای سی ایل پر نام ڈالنے کا کیا فائدہ۔

قومی اسمبلی میں اسد عمر نے اپوزیشن پر تنقید کی اور کہا کہ خواجہ صاحب کہہ رہے ہیں پی ٹی آئی کی مقبولیت ختم ہوگئی ، مجھے لگتا ہے نون لیگ کو الیکشن میں کوئی نشست ہی نہیں ملے گی۔ انھوں نے قرضے لے کر معیشت وہاں لا کر کھڑی کردی کہ مفتح اسماعیل کو کہنا پڑا تباہی ہورہی ہے، کہتے ہیں حفیظ شیخ اور رضا باقر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیں، میرا تو ای سی ایل سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔

اس سے پہلے خواجہ آصف نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت نے سمجھ لیا تھا کورونا آئے گا اور چلا جائے گا، وبا سے نمٹنے کی جامع حکمت عملی نہیں بنائی گئی ، حکومت نے ڈاکٹروں اور نرسوں کو تنہا چھوڑ دیا، اسد عمر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا 3 ماہ میں وبا پر قابو نہیں پایا جاسکتا تھا۔

خواجہ آصف نے بجٹ کو عارضی قرار دیتے ہوئے منی بجٹ آنے اور مزید ٹیکس لگنے کی پیش گوئی کی ، انھوں نے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ کرائے کے لوگ ہیں ، انہیں کیوں لے کر آتے ہیں، حکومت نے معاشی پسپائی اختیار کی اور شکست تسلیم کرلی۔ نوازشریف کے پاکستان میں جی ڈی پی 5.5 فیصد تھی، عمران خان کے نئے پاکستان میں جی ڈی پی منفی صفر اعشاریہ 4 ہے۔ نواز شریف کے پاکستان میں زرعی ترقی 4، نئے پاکستان میں2.7 فیصد ہے۔ عمران خان کو بڑی چاہ اور لاڈ سے لایا گیا تھا لیکن لاکھوں افراد بے روزگار ہورہے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو