بیٹوں سمیت گرفتار نہال ہاشمی کی ضمانت

کراچی کی عدالت نے پولیس اہلکاروں پر مبینہ تشدد کے بعد گرفتار نون لیگی رہنما نہال ہاشمی اور ان کے 2 بیٹوں کی ضمانت منظور کرلی۔

سعود آباد پولیس کے مطابق نہال ہاشمی کے بیٹے کی کسی سے تکرار ہوئی تھی، اہلکاروں نے پوچھا جس پر نہال ہاشمی کے بیٹے نصیر ہاشمی نے جھگڑا شروع کردیا، اسے تھانے منتقل کیا گیا جہاں اس نے اہلکاروں کی وردیاں پھاڑ دیں۔

نہال ہاشمی کے بیٹے کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے رہائش گاہ کے قریب گھر والوں کو روکا اور قریب آنے کی کوشش کی، انھوں نے روکا تو پولیس نے موبائل فون توڑ دیا۔

لیگی رہنما نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ تھانے میں ایس ایچ او سادہ کپڑوں میں تھا، پولیس نے انھیں اور اہلیہ نشاط فاطمہ کو دھکے دیئے جس سے اہلیہ زخمی ہوگئیں۔

پولیس نے نہال ہاشمی، ان کے بیٹوں نصیر ہاشمی اور ابراہیم ہاشمی کے خلاف  جان سے مارنے کی دھکی، کارسرکار میں مداخلت، تشدد اور لڑائی جھگڑے کی دفعات کے تحت ایس ایچ او سعود آباد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس نے تینوں کو ریمانڈ کیلئے کراچی کی سٹی کورٹ میں پیش کیا جہاں پولیس کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس دوران لیگی کارکنوں نے انویسٹی گیشن افسر کو عدالت آنے نہیں دیا ، سرکاری وکلا بھی کافی دیر تک عدالت میں داخل نہیں ہوسکے ، نہال ہاشمی کے وکلا نے دلائل دیئے اور کیس کو بے بنیاد قرار دیا ، بعد میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے تینوں کی ضمانت منظور کرلی۔

ٹرینڈنگ

مینو