برطانیہ میں پرتشدد احتجاج، پکڑ دھکڑ،ویڈیو

برطانیہ میں بھی بلیک لائیوز میٹر تحریک زور پکڑ گئی، لندن میں احتجاج کے دوران گلوکارہ میڈونا ، باکسر انتھونی جوشا اور ٹینس کے سابق کھلاڑی بورس بیکر سمیت کئی اسٹارز نے شرکت کی، اس دوران مشتعل مظاہرین کی پولیس سے مڈبھیڑ بھی ہوئی۔ انتھونی جوشا کا کہنا ہے کہ نسلی منافرت وائرس ہے اور ہم سب ویکسین ہیں۔

لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر پر بھی بلیک لائیوز میٹر کی صدائیں بلند ہوگئیں، ہزاروں افراد جمع ہوئے اور کورونا وائرس کا پھیلاو روکنے کیلئے حکومتی ہدایات نظر انداز کردیں۔

مظاہرین امریکا میں جورج فلائیڈ کی موت کے خلاف نعرے لگاتے رہے، اچانک شرکا مشتعل ہوئے اور مظاہرین کے ہاتھ میں جو چیز آئی گھڑ سوار پولیس اہلکاروں پر پھینکنا شروع کردی۔

پولیس ابھی مظاہرین کو روکنے کی کوشش ہی کررہی تھی کہ ایک گھوڑا بدک گیا اور اہلکار زخمی ہوگیا۔

مظاہرین اس سے پہلے ڈاوننگ اسٹریٹ پہنچے تھے جہاں انھوں نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ وزیراعظم بورس جونسن پر نسل پرستی کے الزامات بھی لگائے تھے۔

مظاہرین نے برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر نعرے بازی کی اور پولیس پر جلتی ہوئی چیزیں پھینکیں۔

مشتعل افراد نے امریکا میں پولیس کے ہاتھ قتل کئے گئے جورج فلائیڈ کے الفاظ دہرائے اور کہا کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے۔

احتجاج کے شرکا نے ہوم آفس کی طرف مارچ اور ونڈرش امیگریشن اسکینڈل کے متاثرین کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران سیکڑوں افراد امریکی سفارتخانے کی طرف چل پڑے۔

پولیس نے مختلف مقامات پر مشتعل مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور ناکامی پر پکڑ دھکڑ شروع کردی۔

مظاہرین کی اکثریت پرامن رہی جبکہ احتجاج میں برطانوی باسکر انتھونی جوشا ، سابق ٹینس کھلاڑی بورس بیکر اور گلوکارہ میڈونا سمیت کئی اسٹارز بھی شریک ہوئے۔

انتھونی جوشا نے مظاہرین سے خطاب کیا اور کہا کہ ہزاروں افراد اس وائرس کے خلاف جمع ہوئے ہیں جو لوگوں کی جانیں لے رہا ہے، یہ وائرس معاشرے میں پھیل چکا ہے ، وہ کورونا وائرس نہیں بلکہ نسلی منافرت کے وائرس کی بات کر رہے ہیں ، برطانوی باکسر نے نسلی منافرت کے سدباب پر زور دیا اور کہا کہ ہم سب ویکسین ہیں اور ہم سب کو مل کر اسے روکنا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو