شاپنگ سینٹر عید کی وجہ سے کھلوائے، عدلیہ

عدالتی فیصلہ آتے ہی ملک بھر میں شاپنگ سینٹرز کھل گئے اور لوگ خریداری میں مصروف ہیں، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ شاپنگ مالز کھولنے کا حکم عید کے تناظر میں دیا گیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے۔ تشویش اخراجات سے متعلق نہیں سروسز کے معیار پر ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے ملازمین کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور نجی لیبارٹری سے منفی آیا، لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر گھر جانے نہیں دے رہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد قرنطینہ سینٹرز میں موجود افراد ویڈیوز میں تارکین وطن سے کہہ رہے ہیں کہ باہر مرجائیں لیکن پاکستان نہ آئیں، ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں اور لوگوں کا احساس نہیں۔ ایک بار جو قرنطینہ سینٹر پہنچ گیا وہ پیسے دیئے بغیر باہر واپس نہیں آسکتا، چاہے وہ نیگیٹو ہی کیوں نہ ہو۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ لاک ڈاؤن پہلے جیسا موثر نہیں رہا، بیوٹی سیلون اور نائی کی دکانیں کھل رہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ شاپنگ سینٹر ہفتہ اور اتوار کو کھولنے کا حکم عید کے تناظر میں دیا گیا ، عید کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ سندھ حکومت کو کچھ نہیں کہا گیا، اس نے سرکاری دفاتر کھول دیئے، سب رجسٹرار کا آفس کھول دیا گیا جو بڑی کرپشن کا ادارہ ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو