امریکا: پرتشدد احتجاج ، نیشنل گارڈز تعینات

بے گناہ سیاہ فام شہری کے دن دیہاڑے قتل کے خلاف پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ امریکا بھر میں شدت اختیار کرگیا۔ منی سوٹا ، اوہائیو ، اٹلانٹا، کینٹاکی سمیت کئی ریاستوں میں نیشنل گارڈز تعینات کردیئے گئے ہیں۔ 

حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر ہوگئے ، کیلی فورنیا کے شہر اوک لینڈ میں فیڈرل پروٹیکیٹیو سروس کے 2 افسروں کو گولی ماری گئی جن میں سے ایک چل بسا۔

شہر میں ساڑھے 7 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔ اس دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جبکہ توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو کے واقعات بھی ہوئے تھے۔

ڈیٹرائٹ میں مظاہرین پر مشتبہ افراد نے فائرنگ کردی جس سے وہاں موجود 19 برس کا نوجوان مارا گیا۔

نیویارک کے علاقے بروکلین میں مظاہرین نے اس وقت تھانے کا گھیراو کرلیا جب افسر نے خاتون کو دھکا دے کر زمین پر گرادیا۔

بروکلین میں بارکلیز سینٹر اسٹیڈیم کے باہر مظاہرین اس وقت تشدد پر اتر آئے جب پولیس نے انھیں منتشر کرنے کیلئے اسپرے کیا۔ اس موقع پر شرکا نے بینرز کو آگ لگا دی۔

نیویارک کے علاقے مین ہٹن کے یونین اسکوائر میں پولیس اہلکار نے مظاہرین پر اس قدر تشدد کیا کہ اس کا ڈنڈا ہی ٹوٹ گیا۔

احتجاج صرف چند شہروں تک ہی محدود نہیں ملک بھر میں پھیل چکا ہے اور امریکا بھر میں ہزاروں افراد کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے۔

مظاہرین کی جانب سے باڑ عبور کرکے وائٹ ہاوس میں داخل ہونے کی کوشش پر امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ کو  لاک ڈاون کرنا پڑگیا۔

واشنگٹن میں مظاہرین آپے سے باہر ہوئے اور اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد پولیس کی گاڑی ہی پھونک ڈالی۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر کسی نے وائٹ ہاوس میں داخلے کی کوشش کی تو اس کا سامنا خونخوار کتوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں سے ہوگا۔

اٹلانٹا میں سی این این کے دفتر کا گھیراو کیا گیا۔ مشتعل افراد نے سی این این کے لوگو کو نقصان پہنچایا اور کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔

مظاہرین نے سی این این کی عمارت کی حفاظت کرنے والی پولیس پر اسموک بم سے حملہ کیا جس سے ایک اہلکار زخمی ہوا۔

اس سے پہلے سی این این ہی کے رپورٹر عمر جمینیز کو پولیس نے لائیو رپورٹنگ کے دوران گرفتار کرلیا تھا۔ ساتھی صحافیوں کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے اسے علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا مگر اس نے مظاہروں کی کوریج جاری رکھی تھی۔ اٹلانٹا میں 5 سو نیشنل گارڈ تعینات کئے گئے ہیں اور ریاست میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔

لوئی ویل میٹرو پولیس  نے حالیہ مظاہرے کے دوران ایک رپورٹر کو بھی پیپربال لانچر کا نشانہ بنا ڈالا جس پر محکمے کو معافی مانگنا پڑگئی۔ لوئی ویل میں پرتشدد مظاہروں کے دوران فائرنگ سے 7 افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

مینیا پلیس میں کرفیو کے باوجود شہر کا بڑا شاپنگ مال لوٹ لیا گیا۔ مینی سوٹا کے گورنر ٹم والز کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے غصے کو سمجھتے ہیں تاہم شہری رات 8 بجے سے صبح 6 بجے تک گھروں میں رہیں۔ مینیاپلیس میں فوج بھیجنے کے باوجود سرکاری احکامات کی خلاف ورزی جاری ہے۔

شارلٹ سمیت مختلف علاقوں میں بھی مظاہرے عروج پر ہیں۔ شرکا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ڈیریک شوان پر تھرڈ ڈگری نہیں فرسٹ ڈگری مرڈر کا الزام عائد کیا جائے اور اس کے ساتھی اہلکاروں کو بھی شریک جرم قرار دیا جائے۔

کینٹاکی میں مظاہرین نے اس سیاہ فام خاتون بریونا ٹیلر کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا جسے 3 پولیس اہلکاروں نے مارچ میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ منشیات رکھنے کے شبہ میں خاتون کو اس کے گھر میں گھس کر گولی ماری گئی تھی تاہم خاتون کے گھر سے کوئی بھی چیز برآمد نہیں کی جاسکی تھی۔

جورج فلائیڈ ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پیدا ہوا تھا۔ اس ریاست میں بھی ہزاروں افراد نے پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج تھا کہ  میرا دم گھٹ رہا ہے اور بہت زیادتیاں ہوچکیں ، اب برداشت نہیں ہوگا۔ مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہوگیا جب ایک شخص نے مظاہرے کے منتظم کو مکا مارنے کی کوشش کی۔

لاس ویگاس کے سن سٹی میں بھی پرتشدد احتجاج کیا گیا جس پر درجنوں افرادحراست میں لے لئے گئے۔

مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی اور حالات کنٹرول سے باہر ہونے کے بعد اب مختلف ریاستوں میں نیشنل گارڈز تعینات کردیئے گئے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو