روزویلٹ ہوٹل جوائنٹ وینچر سے چلانے کا فیصلہ

مناہل تنویر

حکومت نے سجی دکھا کر کھبی ماردی، نیویارک میں پاکستان کے مہنگے ترین ہوٹل کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اسلام آباد میں اجلاس کے دوران اہم فیصلے کرلئے گئے۔

نجکاری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ روزویلٹ ہوٹل کو دوبارہ تعمیر کرکے نجی پارٹی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے ذریعے چلایا جائےگا۔

بتایا تو یہ گیا ہے کہ ہوٹل کی نجکاری نہیں ہوگی لیکن یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ جوائنٹ وینچر کے تحت چلانے کیلئے فنانشنل ایڈوائزر تعینات کیا جائے گا۔ نجکاری کمیشن کو روز ویلٹ ہوٹل کا فنانشل ایڈوائزر مقرر کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ اجلاس میں ہوٹل کی ٹاسک فورس کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

امریکی صدر تھیوڈر روز ویلٹ کے نام پر قائم اس ہوٹل کا افتتاح 23 ستمبر 1924 کو ہوا تھا، اس وقت اس کی تعمیر پر ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر خرچ کئے گئے تھے۔

نیویارک کے مہنگے ترین علاقے میں واقعہ یہ 1947 کا پہلا ہوٹل تھا جس کے کمروں میں ٹیلی وژن رکھے گئے تھے، کونریڈ ہلٹن نے 1943ء میں یہ ہوٹل خریدا، 1979ء میں پی آئی اے نے سعودی شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ مل کر اس کو لیز پر حاصل کیا، قومی ایئرلائن نے 2005 میں سعودی شہزادے سے 99 فیصد شیئرز خرید لئے جبکہ لیز میں طے کی گئی شرائط کے تحت پی آئی اے نے 1999 میں ہوٹل کی عمارت 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خریدلی۔

پی آئی اے نے 2007 میں ہوٹل کی مرمت اور تزئین و آرائش پر 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ کئے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو