فواد چوہدری بھی تحفظ بنیاد اسلام بل کے خلاف

فروہ شمشاد

وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے پنجاب تحفظ بنیاد اسلام بل کی منظوری پر تنقید کرتے ہوئے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے انتہا پسندی بڑھے گی۔

فواد چوہدری نے ٹوئٹ کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے ماحول پر تشویش ظاہر کی، وفاقی وزیر نے بتایا کہ انھوں نے یہ قانون نہیں پڑھا لیکن پارلیمان خصوصا پنجاب میں ایسا ماحول بنادیا گیا ہے کہ ہر رکن روزانہ ایک نئی تحریک لے کر آجاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے اگر یہ نہ ہوا تو اسلام خطرے میں ہے۔

انھوں نے ارکان اسمبلی کے رویئے کو  خطرناک قرار دیا اور کہا کہ اس سے قوم فرقہ ورانہ اور مذہبی شدت پسندی کے گرداب میں دھنستی چلی جائے گی۔

فواد چوہدری کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کو نہ TikTok سے خطرہ ہے نہ کتابوں سے، ہاں فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم اور شدت پسندی سے خطرہ ہے، محلوں میں مقید حضرات احتیاط کریں ایسی آگ کو ہوا نہ دیں کہ خود جل جائیں۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے بھی اس بل کو قرآن اور سنت سے متصادم جبکہ آئین پر حملہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے ملک بھر میں جمعہ کو پرامن احتجاج کا اعلان کیا ، آغا موسوی نے کہا کہ محرم سے پہلے اس بل کی منظوری امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کی حکومت کوششوں کو دھچکا پہنچائے گی، نیشنل پارٹی پنجاب اور وویمن ڈیموکریٹک فرنٹ نے بھی بل کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو