ایک شکریہ قرض رہا

زرین اختر(لیکچرار وفاقی اردو یورنیورسٹی)

یونیورسٹی میں پڑھنے کا زمانہ برین اسٹارمنگ کا دور ہوتا ہے۔ طالب علموں کی برین اسٹارمنگ وہ استاد کرسکتا ہے جو خود اس عمل سے گزرا ہو۔ سوال جس طالب علم کی روح کو بے چین رکھتے ہیں وہ کسی ایسے استاد کے پاس پہنچ ہی جاتا ہے۔

دیکھنے میں بڑے اجلے اور کھرے، ان کے اجلا نظر آنے میں کتنا کمال ان کی سفید رنگت کا تھا ، کتنا سفید پینٹ اور ہلکے رنگ کی قمیص کا اور کتنا ان کے نظریات اور لہجے کے دوٹوک ہونے کا ، ان سب عناصر سے مل کر ان کی شخصیت کچھ کیلئے خوش گوار تھی اور بہت سوں کیلئے ناخوش گواریت رکھتی تھی۔ کراچی یونیورسٹی کا شعبہ ابلاغ عامہ جس کے بارے میں عمومی تاثر تھا کہ اس پر جماعتیوں کا قبضہ ہے ، سرور جاوید صاحب جیسے اشتراکی نظریات کے حامل بھی وہاں بحیثیت جز وقتی استاد پڑھاتے تھے۔ کلاس لینے ہمیشہ آتے لیکن کبھی وقت پر نہیں۔ حتیٰ کے جس دن پرچہ تھا اس دن بھی تاخیر سے پہنچے۔ جب طلبا کا شعبے میں ٹہلتے ٹہلتے براحال ہوگیا تو دیکھا کہ سر آرٹس لابی سے آتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، مسکرا بھی رہے ہیں ، ایک طالبہ کی برہمی پر مسکراہٹ ہنسی میں بدل گئی۔ ایک دن دو طالبات نے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ پڑھنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ استاد جس وقت پڑھائے آپ نے پڑھنا ہے۔ اب کوئی اس سے اتفاق کرے یا اختلاف ، یہ تو سمجھ میں آیا کہ استاد استاد ہوتا ہے۔ ہم جماعت سہیلیوں کا یہ رویہ میرے لیے حیران کن تھا لیکن استاد محترم سمجھ گئے کہ ان طالبات نے کس کے کہنے میں آکر یہ اعتراض کیا ، استاد محترم کے کمرے کی نگرانی کے فرائض بھی شعبے کے ایک استاد ہی انجام دیا کرتے تھے۔

شعبے کے تمام اساتذہ زندگی کے بارے میں ویسے ہی نظریات رکھتے تھے جیسے ہم نے اپنے گھروں میں سنے اور دیکھے۔ استاد محترم مختلف اور چونکا دینے والی بات کرتے جس میں بڑی کشش محسوس ہوتی اور صرف کشش ہی نہیں کبھی لگتا کہ جیسے دماغ کا فیوز ہی اڑ گیا ، اب تک جو پڑھا ،جو پڑھایا گیا، جو سمجھا سب دھواں بن کر خلا میں تحلیل ہوگیا۔ یہ تجربہ برا نہیں تھا بلکہ عالی شان تھا۔ یہ ہونا ہی چاہیے۔ اسی کی کمی ہے جو ہم سوال ہی نہیں سن پاتے ، برداشت ہی نہیں کرتے ، سوال تو سوال ، سوال کرنے والا جیسے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق بن جاتاہے ، بسا اوقات واجب القتل بھی۔ ہاں یہ بہت بعد میں سمجھ آیا کہ کمال صرف چونکا دینے والی بات کرنے میں نہیں ، کمال کی بڑی منزلیں ہیں۔ یہ سہرا استاد صاحب ہی کے سر ہے کہ اس راہ پر قدم رکھا۔

اشتراکی  لگتا ہے کہ زندگی میں صرف جدوجہد کا تصور رکھتے ہیں ، اپنے لیے خوش گوار اور کامیاب ازدواجی و پیشہ ورانہ زندگی کا اجتماعی تصور رکھتے ہوں تو رکھتے ہوں لیکن انفرادی نہیں۔ سو عام دنیاوی معیارات پر انہیں کامیاب آدمی تو قطعی نہیں کہا جاسکتا۔ شاعر تھے۔ ویسے ہی جیسے عام طور پر مشہور بلکہ بدنام ہوتے ہیں ، اس میں غلط صحیح کچھ بھی نہیں۔ عاشق مزاج ہوتے ہیں اور عشق کرتے پھرتے ہیں۔ جب بھی مبتلا ہوتے ہیں دل سے ہوتے ہیں۔

شاعر کا دل ایسا ہی ہوتا ہے۔ پیسوں کے سلسلے میں بڑا کھلا ہاتھ، چند طالب علم تھے ، کینٹین کے پاس محمود حسین لائبریری کے سامنے گھاس پرطالب علموں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی ، پیسے دیے ، ایک طالبہ نے کہا مجھے مردوں کی یہ بات بہت پسند ہے کہ پیسے دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ شاید سر کی بیگم کو ان کی یہ عادت پسند نہ ہو اور یہاں ان کی بیگم غلط نہیں۔ پریس کلب میں ایک صاحب کبھی کبھی آتے۔ سر انہیں کھانا کھلاتے ، ان کی باتیں سنتے ، جب وہ جانے لگتے تو کچھ روپے ان کی جیب میں رکھ دیتے۔ پتا چلا کہ سر کے بڑے بھائی ہیں۔ نیو کراچی میں ان کے مرحوم دوست کی بیوہ اور بچے رہتے تھے۔ ان سے ملنے جاتے۔ ان کے چھوٹے بیٹے کا اسکول میں داخلہ کرایا،بیٹی کو ریڈیو پاکستان میں متعارف کرایا۔ ایک دن بتایا کہ ہر سال محرم کے جلوس میں کچھ دوست ضرور جمع ہوتے ہیں۔ ایک جگہ طے ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں ، سال بھر رابطہ نہیں ہوتا، سال بعد جو نہیں پہنچتا تب اس کے بارے میں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ نہیں رہا۔ جیسے اس سال محرم کے جلوس میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ٹرینڈنگ

مینو