1932 کے بعد پہلی بار حج منسوخ کرنے پر غور

کورونا کیسز میں تشویشناک حد تک اضافے کے بعد سعودی عرب نے اس سال حج منسوخ کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق سعودی عرب میں کورونا کیسز ایک لاکھ سے زائد ہوچکے ہیں ، سعودی حکام 1932 میں شاہی حکومت قائم ہونے کے بعد پہلی بارحج منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

سعودی حکومت اس سے پہلے لوگوں کی محدود تعداد کو حج کی اجازت دینے پر غور کر رہی تھی لیکن بدلتی صورتحال کے باعث اب نیا آپشن زیر غور ہے۔ حکام ایک ہفتے میں حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

مملکت میں کورونا کیسز بڑھنے کے بعد سعودی عرب نے غیرملکیوں کے عمرے پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کو کئی روز بند کرنا بھی پڑا تھا۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا اس بار اپنے شہریوں کو حج کیلئے نہ بھیجنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو