کرنٹ سے اموات، کے الیکٹرک پر کیس کا حکم

مناہل تنویر

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کراچی میں کرنٹ لگنے سے اموات کی ایف آئی آر میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے اموات کے معاملے کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک کا آڈٹ کرایا جائے اور سی ای او مونس علوی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

چیف جسٹس نے نیپرا کو ہدایت کی کہ کراچی میں بجلی بند کرنے پر جرمانہ کریں، کے الیکٹرک نے شہر میں ارتھ وائر کاٹ دیں، قتل کے کیس بنائے جائیں۔

کے الیکٹرک کے وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ لوگ گھروں میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے ، سپریم کورٹ نے کہا کہ بجلی کا فالٹ ہوتا ہے تو کسی کی جان جاتی ہے ، سڑکوں پر بھی جانیں گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کے الیکٹرک کے وکیل سے مخاطب ہوکر کہا کہ عدالت آپ کے غیرملکی مالکان کی ذہنیت سمجھتی ہے، وہ پاکستانیوں کو غلام اور کچرا سمجھتے ہیں، ان کے تو اونٹ کی قیمت بھی پاکستانی سے زیادہ ہے۔

چیف جسٹس نے چیئرمین نیپرا سے پوچھا کہ اگر کے الیکٹرک کا لائسنس معطل ہوجائے تو آپ کے پاس متبادل کیا ہے۔ سی ای او کے الیکٹرک نے بتایا کہ 10 سال میں ڈھائی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ چیف جسٹس نے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ کراچی والوں کو بھاشن نہ دیں، ایک منٹ کیلئے بھی بجلی بند نہیں ہونی چاہئے سمجھے ؟ آپ نے سرمایہ کاری سے زیادہ نقصان کیا ، آپ پوری دنیا میں ڈیفالٹر ہیں، بڑے بڑے جرمانے لگے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو