میئر کراچی اب جان چھوڑو، سپریم کورٹ

محسن رضا

سپریم کورٹ نے کراچی سے تمام سائن بورڈ اور بل بورڈز ہٹانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے میئر وسیم اختر سے کہا کہ جاؤ بھائی اب جان چھوڑو ، اختیارات نہیں تو گھر جاؤ ، میئر بنے کیوں بیٹھے ہو۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بل بورڈ گرانے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزار احمد نے بل بورڈ گرنے سے شہریوں کے زخمی ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، انھوں نے ریمارکس دیئے کہ مافیا حکومتوں کو پال رہی ہے، اگر کچھ کیا تو حکومتوں کا دانا بند ہو جائے گا۔ عدالت نے کمشنر کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے کہا کہ تمام بل بورڈ اور سائن بورڈ ہٹادیئے جائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شہر میں ہر کوئی مارشل لاء بنا بیٹھا ہے، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے وسیم اختر سے سوال کیا آپ کب جائیں گے، میئر بولے 28 اگست کو مدت ختم ہورہی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جاؤ جان چھوٹے شہر کی، اگر اختیارات نہیں تو گھر جاؤ ، کیوں میئر بنے بیٹھے ہو۔ شہر کے میئرز نے شہر تباہ کردیا ، لوگ آتے ہیں جیب بھر کر چلے جاتے ہیں، کے الیکٹرک والے بھی مزے کر رہے ہیں، بجلی والوں نے باہر کا قرضہ کراچی سے نکال لیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد ریمارکس دیئے کہ لوگ کیسے ان عمارتوں میں رہتے ہیں جہاں روشنی تک نہیں ہوتی، دن رات کا پتہ بھی نہیں چلتا ، یہ سب بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی ہے، یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہے ؟ شہر بھر میں کچرا اور گندگی ہے ، لگتا ہے لوکل باڈیز اور صوبائی حکومت کی شہر سے دشمنی ہے، مئیر کراچی بھی شہر سے دشمنی نکال رہے ہیں، لوگوں نے اس کو ووٹ دیا تھا کہ کراچی کیلئے کچھ کرے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو