سرینا عیسیٰ کا بیان، فیصلہ اتھارٹی کرے گی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں جائیدادوں سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرادیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت بیان اور جائیداد کی خریداری کے ذرائع سے مطمئن ہے لیکن فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے ہی کرنا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کی، سرینا عیسیٰ نے بتایا کہ وہ ہسپانوی شہریت رکھتی ہیں، جب شوہر وکیل تھے تو 5 برس کا پاکستانی ویزا دیا گیا، 2020 میں انھیں ایک سال کا ویزا ملا، وہ امریکن اسکول کراچی میں ملازمت کرتی رہیں اور وکیل ٹیکس گوشوارے جمع کراتے رہے، ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے بارے میں ایسا کیس بنایا گیا جیسے وہ کسی جرم کی ماسٹر مائنڈ ہوں، پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی جس کا مالیاتی گوشواروں میں ذکر ہے۔ کراچی کے علاقے کلفٹن بلاک 4 میں جائیداد لی جو بیچ دی گئی۔

سرینا عیسی نے بتایا کہ جیکب آباد میں زرعی زمین ان کے نام پر ہے ، اس کا شوہر سے تعلق نہیں ، یہ زمین انھیں اپنے والد سے ملی، ڈیرہ مراد جمالی میں بھی زرعی اراضی ہے۔ وکیل کے مشورے سے فارن کرنسی اکاونٹ کھلوایا تھا ، 2003 سے 2013 تک اس اکاؤنٹ کے ذریعے رقم لندن بھجوائی، ایک جائیداد 26 ہزار 300 پاؤنڈ میں خریدی گئی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے فارن کرنسی اکاونٹس میں 2 لاکھ پاؤنڈ منتقل کئے گئے، جس اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی وہ بھی ان کے نام پر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ برطانیہ نے زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا جبکہ ایف بی آر سے ریکارڈ لینے گئیں تو اُنھیں کئی گھنٹے انتظار کرایا گیا۔

بنچ کے سربراہ نے کہا کہ عدالت ان کے بیان اور جائیداد کی خریداری کے ذرائع سے متعلق مطمئن ہے البتہ اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے کرنا ہے۔

حکومتی وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے کہ جوڈیشل کونسل بدنیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔  جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریفرنس میں قانونی نقائص اور بدنیتی ہے، فروغ نسیم بولے قانون کہتا ہے کم معیار کے ساتھ کام چلایا جا سکتا ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ آپ کے مطابق جج کے ساتھ کم معیار کے ساتھ کام چلایا جائے، ٹھوس شواہد ہونے چاہئیں۔ فروغ نسیم نے ریفرنس سے متعلق صدر کو بھجوائی گئی سمریوں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کیا، انھوں نے کہا کہ تشدد کے بغیر حاصل مواد قابل قبول دستاویز ہے ، برطانیہ میں جاسوسی اور چھپ کر تصویر بنانے کو قابل قبول شواہد قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ میری جاسوسی ہوسکتی ہے ؟ یہ تو ایسے ہی ہو گا کہ جمہوریت سے فاش ازم کی طرف بڑھا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آؤ جائیدادیں ڈھونڈیں ، آؤ جائیدادیں ڈھونڈیں کا اختیار کہاں سے حاصل کیا گیا؟

فروغ نسیم نے جواب دیا صحافی کی طرف سے معلومات آگئیں تو حقیقت کا پتہ چلایا گیا، جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ ضیا المصطفی نامی شخص کو نجی جاسوس کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار نہیں تھا ، شکایت کنندہ کی درخواست میں صرف ایک جائیداد کا ذکر تھا، صدر کی منظوری کے بغیر کسی جج کے خلاف مواد اکٹھا نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا حکومت نے وحید ڈوگر سے معلوم کیا وہ معلومات کہاں سے لے کر آئے ؟ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وحید ڈوگر کو کیسے پتہ چلا یہ جائیدادیں گوشواروں میں ظاہر نہیں۔ ملک میں احتساب کےنام پر تباہی ہو رہی ہے،  اس پر بھی لکھیں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو