حکومت 5 جولائی کے ظلم کی انتہا، بلاول

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی، عسکریت پسندی اور لسانیت کو اپنی جابرانہ حکمرانی قائم رکھنے کیلئے ہتھیار بنانے والوں کو ہٹادیا جائے گا۔

جنرل ضیا نے 5 جولائی کو آئین معطل کرکے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، پیپلزپارٹی آج یوم سیاہ منا رہی ہے، اس دن کی مناسب سے اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ 5 جولائی1977 کو جمہوریت ختم کی گئی تھی، یہ ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ 4 دہائیوں بعد بھی 5 جولائی 1977 کی بلا قوم کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ، موجودہ کٹھ پتلی حکومت 5 جولائی 1977 کے جرم کی انتہا ہے لیکن اب پاکستان میں یہ باب ہمیشہ کیلئے بند ہونے والا ہے۔ پہلے براہ راست منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جن عناصر نے ہٹایا وہ یا تو نیست و نابود ہوگئے یا شرمناک زندگی گزار رہے ہیں، جرم و گناہ کی کوئی میراث نہیں ہوتی۔ موجودہ کٹھ پتلی کی طرح ہر غاصب حکمران کو اس آفاقی حقیقت کی سمجھ نہیں ہوتی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی فتح تک آئین و جمہوریت کیلئے جدجہد جاری رکھے گی، صوبائی خودمختاری کے نفاذ کیلئے گنجائش محدود کی جا رہی ہے۔ مزدوروں کے سروں پر بے روزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے، دو وقت کی روٹی اور انصاف مہنگا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی، عسکریت پسندی، فرقہ واریت اور لسانیت کو جابرانہ حکمرانی قائم رکھنے کیلئے ہتھیار بنانے والوں کو اسی طرح ہٹایا جائے گا جیسے نسل پرستی اور نفرت کے بیوپاریوں کے مجسموں کو ہٹایا جا رہا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو