سینیٹ اور قومی اسمبلی سے 2 اہم بل منظور

محمد عثمان

سینیٹ اور قومی اسمبلی نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل ترمیمی بل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلئے البتہ جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت کی۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے سینیٹ اجلاس میں  بل پیش کئے، ایکٹ کا شق وار جائزہ لیا گیا اور پھر کثرت رائے سے دونوں بلوں کی منظوری دے دی گئی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں بلز کی منظوری پر تمام جماعتیں مبارکباد کی مستحق ہیں، سب نے مل کر بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، کوشش ہے گرے سے وائٹ لسٹ میں جائیں، جے یو آئی کے دوستوں نے بل کی مخالفت کی، وہ اب بھی فیصلے پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ بلز کی منظوری کے بعد رپورٹ ایشیا پیسفک گروپ کو پیش کی جائے گی ، اب پاکستان نے سب مراحل طے کر لئے ہیں اور ہم پاکستان کو وائٹ لسٹ میں لائیں گے۔

وزیرقانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی تجویز کردہ ترامیم سے متفق ہے، ایف اے ٹی ایف کنسلٹنٹ نے ای میل کرکے ان ترمیم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

سینیٹ کے بعد اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، ایوان میں سلامتی کونسل ترمیمی بل2020 اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 پیش کئے گئے۔ اسمبلی نے دونوں بلز کی اکثریت رائے سے منظوری دے دی۔ جے یوآئی ف نے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی بلز کی مخالفت کی۔

ایف اے ٹی ایف اہداف کی روشنی میں انسداد دہشتگردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے تحت جرمانہ 5 کروڑ اور سزا 10 سال کردی گئی ہے، مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے، ایسے افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے سکے گا۔ مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے شخص کو ڈھائی کروڑ جبکہ قرض دینے والے ادارے کو 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ کالعدم تنظیم یا اس کے نمائندے کی تمام جائیداد فوری منجمد کی جائے گی۔

ٹرینڈنگ

مینو