اسلام آباد : اغوکاروں نے مطیع اللہ جان کو چھوڑ دیا

محمد عثمان

اسلام آباد سے اغوا کئے گئے سینئر صحافی مطیع اللہ جان 12 گھنٹے بعد گھر پہنچ گئے۔ اغوا کار انھیں اسلام آباد سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ میں چھوڑ کر چلے گئے۔

سینئر صحافی مطیع اللہ کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کے اغوا کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی۔ وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے بھی ان کے اغوا کی تصدیق کی تھی۔

مطیع اللہ کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر کی گاڑی سیکٹر جی 6 میں اسکول کے باہر کھڑی ملی، شوہر کو کچھ لوگ زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ، مطیع اللہ کے بیٹے نے بھی والد کے ٹوئٹر اکاونٹ سے ٹوئٹ کیا تھا اور والد کے اغوا سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

مطیع اللہ جان کے بھائی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی بازیابی کیلئے درخواست دائر کی تھی ، اس پر عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ مطیع اللہ جان کو بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر  فریقین ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر نے واقعے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ آج کمیٹی کو اس معاملے پر بریفنگ دیں۔ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی حکومت سے مطیع اللہ کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں مطیع اللہ جان کی ایک ٹوئٹ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے انہیں آج کیلئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو