کورونا : چینی حکومت کے اقدامات مشعل راہ

تحریر: نغمانہ ہاشمی (سفیر پاکستان ، عوامی جہمہوریہ چین)

عوامی جمہوریہ چین دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کورونا وائرس پر کامیابی سے قابو پالیا۔ چین کی یہ شاندار کامیابی چینی قیادت کی حکمت و بصیرت، ماہرین صحت کی معاملہ فہمی، انتظامیہ کی محنت شاقہ اور عوام الناس کے عزوم استقلال اور اپنی حکومت پر یقین محکم کا طفیل ہے۔

چینی حکومت نے وبا کے برق رفتار پھیلاو کے تدارک کیلئے قرنطینہ اور سماجی بُعد کو یقینی بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کے عمل کو شروع کیا تاکہ متاثرہ افراد کی نشاندہی کی جاسکے۔ چین کے صحت کے نظام اور علاج معالجے کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر چشم زدن میں ووہان میں دو بڑے اسپتالوں کو تعمیر کیا گیا۔ اس دور آزمائش و ابتلا میں بھی چینی انتظامیہ نے عوام الناس کو بنیادی ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنائے رکھا اور معاشرتی ومعاشی نظم وضبط کو متاثر نہ ہونے دیا۔

چین کے 7 اہم اقدامات جو کورونا وائرس پر قابو پانے میں ممدومعاون ثابت ہوئے مندرجہ ذیل ہیں:

1: کسی بھی وبائی مرض کے سدباب کیلئے اولین قدم اس کے پھیلاو کو روکنا ہے۔ چینی حکومت نے اس اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صوبہ ہوبے بشمول ووہان شہر کا مکمل لاک ڈاون کیا اور داخلی وخارجی آمد و رفت کے تمام راستے مسدود کردیئے۔ علاوہ ازیں ووہان شہر کے 86 اسپتالوں کو صرف کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے مختص کردیاگیا۔ چینی حکومت نے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر 2 نئے اسپتالوں کو بھی تعمیر کیا۔ مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ پورے ملک میں وبا سے بچاو ، قرنطینہ کی اہمیت ، حفظان صحت کے اصولوں اور عوامی اجتماعات سے گریز کیلئے ایک وسیع تر تشہیری مہم کا اہتمام بھی کیا۔ بلا ضرورت سفر پر پابندی لگا دی گئی اور متاثرہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر مفت ٹیسٹنگ کا اہتمام کیا گیا تاکہ وبا کے پھیلاو پر موثر قابوپایا جا سکے۔

2: صوبہ ہوبے بشمول ووہان شہر کی وبا کے خلاف مہم کی استعداد بڑھانے کیلئے انتہائی منظم طریقے سے پورے ملکی وسائل کا رخ متاثرہ علاقوں کی طرف موڑ دیا گیا۔ پورے چین سے 42000 صحت کے ماہرین کو ، جن میں چینی افواج کے دستے بھی شامل تھے، ووہان کی طرف روانہ کیا گیا۔ مقامی صنعتوں کو حفاظتی اشیا بشمول ماسک ، حفاظتی لباس، دستانے اور دیگر مطلوبہ اشیا کی فراہمی کیلئے مامور کردیا گیا۔ عوام الناس کو اس امرکا پابند کیا گیا کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے آپ کو اپنے رہائشی مقامات پر مقید رکھیں اور حکومت کو فی الفور آگاہ کریں۔

3: چینی راہنماوں بشمول صدر شی جن پنگ نے چینی عوام اور اعلی حکام کو متواتر یہ باور کروایا کہ کورونا وبا چین کی تاریخ کا سب سے کٹھن اور صبرآزما امتحان ہے۔ جو چینی نظام حکومت اور انتظامیہ کی افادیت اور مستقبل پر گہرے اثرات ثبت کرے گا۔ صدر شی کی قیادت میں چینی اداروں اور عوام نے وبا کے خلاف ایک عوامی جدوجہد کا آغاز کیا۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے تمام مصروفیات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض کورونا وبا کا مقابلہ یکسوئی سے کرنے کا عہد کیا۔ چینی وزیراعظم جناب لی کھہ چیانگ کی سربراہی میں انتظامیہ کے مختلف اداروں کے مابین تعاون کو بڑھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے گئے۔ عوام الناس  کو چین کے ہر شہر میں مریضوں کی تعداد اور مرض کی شدت کے بارے میں روزانہ تفصیلات فراہم کی گئیں تاکہ عوام کو بدلتی ہوئی صورت حال سے آگاہ رکھا جاسکے۔ چینی سربراہوں نے نائب وزیراعظم محترمہ سن چن لان کو ووہان بھیجا جو لاک ڈاون کے اختتام تک وہاں مقیم رہیں اور امدادی کارروائیوں کی سربراہی کرتی رہیں۔ چینی حکومت نے کاہلی اور سستی کے مرتکب اعلی حکام کو ان کے عہدوں سے فی الفور معذول کردیا۔

4: بیماری کے پھیلاو کو روکنے کیلئے چینی حکومت نے نئے سال کی تعطیلات کو مزید طوالت دے دی۔ اسکولوں کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیا گیا۔ انتہائی اہمیت کے حامل چینی مقننہ کے سالانہ 2 اجلاسوں کو ملتوی کردیا گیا اور سیاحتی سرگرمیاں بند کردی گئیں۔ علاوہ ازیں کم متاثرشدہ علاقوں میں اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ مصروفیات زندگی معمول کے مطابق جاری رہیں اور عوام الناس کسی خوف اور دباو کا شکار نہ ہوں۔

5: معاشی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی حکومت اور صوبائی انتطامیہ نے زراعت اور صنعت کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا تاکہ بے روزگاری پر قابو پایا جاسکے۔ چینی حکام کو سختی سے تاکید کی گئی کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں معمول کے مطابق رہیں۔ چینی کابینہ نے غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے خصوصی اقدامات کا اجرا کیا۔ صنعتوں کیلئے قرضے کا حصول آسان بنایا گیا اور بیرونی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں مزید کم کی گئیں۔ چینی مزدور طبقے کی ایک بڑی تعداد دیہاتوں سے آئے ہوئے 17 کروڑ محنت کش تھے جو سال نو کی تعطیلات کی وجہ سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جا چکے تھے۔ معاشی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کیلئے ان مزدوروں کو صنعتوں اور دفاتر میں لانے کیلئے ذرائع آمدوروفت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ قرنطینہ کے دوران تجارتی سرگرمیوں کو جاری وساری رکھنے کیلئے انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کو فروغ دیا گیا۔ سرکاری دفاتر اور کارپوریٹ اداروں میں آن لائن اجلاسوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ صنعت وتجارت طویل قرنطینہ او وبا کے مضر اثرات سے محفوظ و مامون رہ سکے۔

6: عالمی سطح پر چین نے ایک ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے عالمی برادری سے مکمل تعاون کیا۔ چین نے شفافیت کا ثبوت دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کو فی الفور وائرس کے پھیلاو کی اطلاع دی اور کورونا وائرس کا ڈی این اے بھی مہیا کیا۔ چین نے 100 سے زیادہ ممالک اور 10 سے زیادہ عالمی وعلاقائی تنظیموں کے ساتھ وبا پر قابو پانے کیلئے تعاون کیا اور دنیا کے بہت سے ملکوں بشمول پاکستان کو طبی سہولیات اور آلات مہیا کئے۔

7: چینی حکومت نے وبا پر قابو پانے کیلئے جدید سائنسی اور تکنیکی خطوط پر اپنی کوششوں کو مرتب کیا۔ صدر شی جن پنگ نے سائنسی ماہرین پر زور دیا کہ وہ بیماری پر قابو پانے کیلئے جلد از جلد جدید سائنسی تحقیقی کی بنیاد پر ویکسین تیار کریں، علاوہ ازیں مختلف دوائیوں بشمول پلازمہ تھراپی کو مریضوں کے علاج کیلئے استعمال کیا گیا۔ چین نے ایک نئی اختراع کرتے ہوئے موبائل فون پر QR کوڈ کا آغاز کیا تاکہ صارفین کی صحت کی معلومات اور سفری تاریخ کا ریکارڈ مرتب کیا جاسکے۔

چین کی اس شاندار کامیابی میں تمام متاثرہ ملکوں بالخصوص پاکستان کیلئے یہ سبق ہے کہ زندہ دل اقوام کا سفینہ حیات صرف نظم وضبط ، یقین محکم اور ثابت قدمی سے ہی کامیابی کے ساحل مراد تک پہنچتا ہے۔ چینی حکومت کے وبا پھوٹنے کے بعد کے اقدامات کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ وبا کے پھیلاو کو روکنے اور اس کی بیخ کنی کرنے کیلئے سیاسی قیادت کی بصیرت اور دور اندیشی ، سیاسی عزم و استقلال اور ماہرین صحت کے مشوروں پر عمل کرنا بے حد اہمیت کا حامل ہے۔

وطن عزیز پاکستان کورونا وائرس کے نرغے میں ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ چین کورونا وبا پر موثر قابو پانے کے بعد تمام اقوام عالم کیلئے ایک امید کا چراغ اور روشنی کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی چین سے صحت عامہ اور بالخصوص کورونا وبا کے حوالے سے تعاون کے درخواست گزار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام چین کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مندرجہ بالا ہدایات پر شدت سے عمل کریں تاکہ پاکستان میں کورونا وائرس کا کماحقہ خاتمہ ہوسکے۔

ٹرینڈنگ

مینو