شہبازشریف کی فرنٹ کمپنیاں سامنے آگئیں، شہزاد اکبر

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہبازشریف فیملی کی درجنوں فرنٹ کمپنیاں سامنے آگئی ہیں ، اب شہبازشریف کا بچنا مشکل ہے۔ 

دھیلے کی کرپشن کے عنوان سے تیسری پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر نے بتایا کہ یہ کمپنیاں 2007 کے بعد ملازمین کے نام پربنائی گئیں اور اربوں روپے منتقل کئے گئے ، شریف فیڈ مل کے ملازم کے نام پر کمپنی بنائی گئی ، رمضان شوگر مل کے ملازم کے والد کے نام پر کمپنی قائم کی گئی اور رقم منتقل کی گئی ، رمضان شوگر مل کے ملازم توقیر کے نام پر کمپنی بنی ، ملک مقصود کے نام پر کمپنی بنا کر 15 سو ملین روپے جمع کرائے گئے ، چنیوٹ پاور کے ملازم کے نام پر رقم بھی منتقل ہوئی۔ ان کی کمپنی جی ایم سی میں اربوں روپے جمع کرائے گئے، ماڈل ٹاون کے چپڑاسی کے نام پر کمپنی قائم کی گئی ، رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے نام پر بے نامی اکاونٹ بنائے گئے، سب ملازمین کے بے نامی اکاونٹس میں 17 ارب 40 کروڑ روپے جمع کئے گئے، شہبازشریف فیملی کے یہ ملازمین ای او بی آئی میں یہ رجسٹرڈ ہیں۔

شہزاد اکبر نے صحافیوں کو دستاویزات دکھائیں اور کہا کہ 18 ہزار تنخواہ والے ملازم کے اکاؤنٹ میں 450 ملین گئے ، مسرور انور نے آپ کے ذاتی اکاونٹ میں 160 ملین جمع کرائے۔ رقم دینے والے کہتے ہیں یہ پیسے پارٹی فنڈ میں دیئے پھر یہ رقم پارٹی کے اکاؤنٹ میں جانی چاہئے تھی۔

شہزاد اکبر نے نون لیگ کے صدر کو لندن میں مقدمہ درج کرانے کا چیلنج کیا اور بھائی کی بیماری کا بہانہ کرکے برطانیہ جانے کا الزام لگا دیا۔

شہزاد اکبر نے شہباز شریف کو مخاطب کیا اور کہا کہ سلمان سمیت کئی افراد کو بیرون ملک بھجوادیا گیا ، ایک حمزہ ہی ہیں جسے آپ ہمیشہ یہاں چھوڑ جاتے ہیں۔ سلمان شہباز کو واپس لے آئیں تاکہ جلد سے جلد مقدمہ ثابت ہو۔

ٹرینڈنگ

مینو