بھائی سے وفاداری پر شہباز شریف کی گرفتاری ، مریم نواز

مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ انھیں بھی گرفتار کرلیا جائے لیکن نوازشریف کی تقریر اور آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ شہبازشریف کو بھائی کے خلاف استعمال نہ ہونے پر گرفتار کیا گیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ شہبازشریف کی گرفتاری کا فیصلہ لکھ کر لائے تھے، شہباز شریف نے کہہ دیا تھا کہ پکڑنا ہے تو پکڑلیں بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ مخالفین جو دل چاہے کرلیں نون سے ش الگ نہیں ہوگی البتہ مخالفین کی چیخیں نکلیں گی۔ اب نواز شریف پوری قوت کے ساتھ ن لیگ کی قیادت کریں گے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ گرفتار ہوتے۔ نیب کو بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی اور عمران خان کا گھر نظر نہیں آتا۔ عمران خان سے زیادہ کسی نے اداروں کو بدنام نہیں کیا، عمران خان کو اسی طرح سپورٹ کیا جاتا رہا تو پھر بات (ن) لیگ کے ہاتھ سے بھی نکل جائے گی۔ وزیراعظم کو خوف ہے کہ شہباز شریف متبادل ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف صرف متبادل نہیں بلکہ پنجاب کی عوام کی نظر میں چوائس ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ شہباز شریف کی 30 سال سے مفاہمانہ سوچ ہے لیکن جب نواز شریف کا فیصلہ آ جاتا ہے تو سرخم تسلیم کرتے ہیں۔ آج انھیں اسی کی سزا ملی۔ لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان کا ووٹرز نون لیگ کے مینڈیٹ کی حفاظت کرے گا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کا مقصد انتخابی مہم سے روکنا ہے۔

اس سے پہلے مریم نواز نے ٹوئٹ کیا تھا اور شہباز شریف کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے نواز شریف کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے جیل جانے کو ترجیح دی۔ انھوں نے بھائی کے خلاف استعمال ہونے سے انکار کیا اس لئے انہیں گرفتار کیا گیا۔

ٹرینڈنگ

مینو