سندھ حکومت مکمل ناکام، سپریم کورٹ

اعجاز امتیاز

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سندھ حکومت مکمل ناکام ہوگئی، حکمران صرف انجوائے کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نالوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے معاملے کی سماعت ہوئی ، کمشنر نے تجاوزات سے متعلق رپورٹ پیش کی، اس میں بتایا کہ کراچی میں 38 بڑے نالے ہیں، 514 چھوٹے نالے ڈی ایم سیز کے پاس ہیں، 3 بڑے نالوں کی صفائی کا کام این ڈی ایم اے کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مکمل تباہی ہے ، سندھ حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، صوبائی حکومت کچھ کررہی ہے اور نہ ہی لوکل باڈی، شہر میں گٹر کا پانی بھرا ہے، لوگ پتھر رکھ کر گٹر کے پانی پر چلتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں شروع کئے گئے تمام منصوبے ضائع ہوگئے ، سکھر ، حیدرآباد ، لاڑکانہ اور دادو کسی ضلع میں کوئی کام نہیں ہوا، ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا، سب پیسہ ختم ہوگیا۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے کراچی کو گوٹھ بنادیا ، کراچی سے کشمور تک برا حال ہے ، یہ تو مکمل انارکی والا صوبہ ہوگیا ، صوبے کو کون ٹھیک کرے گا ؟ کیا وفاقی حکومت کو کہیں کہ آکر ٹھیک کرے ؟

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہاں مافیا آپریٹ کررہے ہیں ، پوری حکومتی مشینری ملوث ہے، افسر شاہی ملی ہوئی ہے، کروڑوں روپے کما رہے ہیں ، غیر قانونی دستاویزات کو رجسٹرڈ کرلیا جاتا ہے ، سب رجسٹرار آفس میں پیسہ چلتا ہے ، معلوم نہیں کس کی پراپرٹی کس کے نام رجسٹر ہوگئی۔

عدالت نے کراچی کی مرکزی شاہراؤں پر لگے یوم آزادی کے بڑے بڑے سائن بورڈز پر برہمی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کمشنر کراچی کی سرزنش کی اور سڑکوں سے سرکاری اور غیر سرکاری تمام سائن بورڈز ہٹانے کا حکم دے دیا۔

ٹرینڈنگ

مینو